Al-Risala · January 1999 · page 41

عملی حالات کی رعایت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۱

ہے اور جب مسلمان اس طرح کے مواقع پر خاموشی کے بجائے جوابی اقدام کا طریقہ اختیار کریں تو غیر ضروری طور پر وہ برا انجام سامنے آجاتا ہے جو بہار شریف اور بھاگلپور جیسے مقامات پر پیش آیا۔

سوال

جہاد کشمیر کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے۔ یہ کوئی اسلامی تحریک بھی ہے یا نہیں (پیر محمد امین ترہگام، کشمیر)

جواب

میرے علم کے مطابق یہ اور اس قسم کی دوسری مسلح تحریکیں قومی لڑائی ہیں نہ کہ اسلامی جہاد۔ اسلام میں جہاد (بمعنی قتال) کوئی انفرادی یا جماعتی عمل نہیں ہے۔ وہ مکمل طور پر ریاست کا ایک عمل ہے۔ فقہ کا ایک متفقہ مسئلہ ہے کہ : الرحیل للامام۔ یعنی کسی قوم کے خلاف جنگ کا اعلان کرنا حاکم کا کام ہے۔ اس قسم کی موجودہ جنگیں حکومتوں کی طرف سے نہیں لڑی جارہی ہیں بلکہ انفرادی اشخاص بطور خود یہ لڑائی لڑرہے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ مزید یہ کہ کوئی مسلم حکومت اگر اس قسم کی کسی تحریک کو خفیہ مدد پہنچائے تو اس بنا پر وہ اسلامی جہاد نہیں ہو جائے گا۔ اس حکومت کو کھلے طور پر اس کا اعلان کرنا پڑے گا۔ اعلان کے بغیر خفیہ جنگ چھیڑ نا بذات خود جائز نہیں۔

سوال

نفاذ اسلام کی تحریکیں موجودہ دور میں کیوں ناکام ہورہی ہیں (پیر محمد امین، ترہگام، کشمیر) جواب اس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ اسلامی قانون کے نفاذ کی تحریک چلانے والے رہنما،

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page