Al-Risala · August 1999 · page 30

کتاب کو پس پشت ڈالنا

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۳۰

دی جائے اور وہ قوم اس کتاب کو خدا کی کتاب کی حیثیت سے قبول کرلے تو ایسا کرنے کے بعد خدا اور اس قوم کے درمیان ایک پختہ عہد قائم ہو جاتا ہے۔ اس عہد کے مطابق، اس قوم کے لئے صرف یہ کافی نہیں ہوتا کہ وہ خود اس کی پیرو بن جائے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہوتا ہے کہ وہ قوم خدا کے بندوں کے سامنے اس کتاب کی نمائندگی کرے ۔ اسی نمائندگی کا دوسرا نام دعوت ہے۔ دنیا کی قوموں کے سامنے خدا کے پیغام کو نہ پہنچانا گویا کتاب الہی کو چھپانا ہے۔ اور دنیا کی قوموں کو اس سے باخبر کرنے کا مطلب خدا کے دین کا اظہار کرنا ہے۔

خدا کی کتاب کا کتمان (اس سے لوگوں کو باخبر نہ کرنا) حامل کتاب گروہ کے لئے ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ کوئی بھی عذر اس فریضہ کو اس سے ساقط نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ انسان چونکہ مرتے ہیں اور نئے لوگ پیدا ہوتے ہیں اس لئے اظہار دین یا دعوت حق کا یہ عمل ہر نسل میں جاری رکھنا ہے، اس کو بار بار دہراتے رہنا ہے تاکہ کوئی بھی نسل یا کوئی بھی پیدا ہونے والا انسان اس سے بے خبر نہ رہے۔

دعوت کا یہ کام سادہ طور پر صرف اعلان کا کام نہیں ہے بلکہ اس کو اس کے تمام تقاضوں کے ساتھ انجام دینا ہے۔ مثلاً لوگوں کی قابل فہم زبان میں اس کو پیش کرنا، مدعو کی زیادتیوں کو یکطرفہ طور پر برداشت کرنا تاکہ دعوت کا معتدل ماحول باقی رہے، مدعو سے کسی بھی قسم کی مادی یا سیاسی کشمکش نہ کرنا تاکہ دعوت کی اخروی حیثیت مجروح نہ ہو۔ دعوت کے عمل کے ساتھ کسی بھی غیر دعوتی پہلو کو شامل نہ کرنا تا کہ اس کا خالص پن (purity) باقی رہے، وغیرہ۔

خدا کی کتاب کو کم قیمت پر بیچنے کا مطلب کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page