Al-Risala · August 1999 · page 31

کتاب کو پس پشت ڈالنا

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۳۱

کتاب کو دنیوی مفادات کے تابع کر دیا جائے۔ دنیا کے کسی فائدہ کو لینے کی خاطر خدا کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ خدا کی کتاب کے نام پر خدا کی کتاب کا اس طرح استحصال کیا جائے کہ نام تو خدا کی کتاب کا لیا جائے مگر عملاً اس سے مادی فائدہ حاصل کرنا مقصود ہو۔ خدا کی کتاب کا حامل کوئی گروہ جب بھی اس کی تبلیغ و اشاعت کا کام چھوڑتا ہے تو اس کا سبب ہمیشہ دنیوی اور مادی ہوتا ہے۔ حامل کتاب گروہ کے افراد پر اخروی فکر کا غلبہ ہو تو وہ لازماً اس کی تبلیغ واشاعت میں سرگرم ہوں گے۔ اس کے برعکس جب لوگوں کے اوپر دنیوی فکر کا غلبہ ہو جائے تو ان کے اندر سے وہ محرک یا داعیہ ختم ہو جاتا ہے جو انہیں تبلیغ واشاعت کے میدان میں سرگرم کرے۔

کتاب الہی کے حامل کسی گروہ پر جب اس قسم کا زوال آتا ہے تو اس کے فکری نتیجہ کے طور پر ایسے لوگوں میں خود غرضانہ نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اس قسم کی نفسیات بلاشبہ دعوت کے لئے قاتل ہے۔ دعوت کا کام وہ لوگ کرتے ہیں جن کے اندر وسیع تر انسانیت کے لئے تڑپ موجود ہو گروہی عصبیت میں مبتلا لوگ دعوت کا کام نہیں کر سکتے۔ اسی طرح جو لوگ مذکورہ قسم کی گراوٹ کا شکار ہوں وہ مختلف قومی یا مادی اسباب کے تحت دوسری قوموں کو اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں۔ اس قسم کا جذبہ بلاشبہ دعوت کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دعوت، اپنی حقیقت کے اعتبار سے دوسروں کے ساتھ محبت اور خیر خواہی کا معاملہ کرنا ہے۔ جس آدمی کے دل میں دوسروں کے لئے خیر خواہی نہ ہو وہ دوسروں کے اوپر دعوت و تبلیغ کا عمل بھی نہیں کر سکتا۔

کسی گروہ کو کتاب الہی کا حامل بنانا اس کو ایک مشن کا حامل بنانا ہے۔ کتاب الہی کا ابتدائی تقاضا یہ ہے کہ اس کے حاملین اس کو اپنی زندگیوں میں اختیار کریں۔ اسی کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page