Al-Risala · January 1999 · page 42

عملی حالات کی رعایت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۲

ایک قدیم مثل کے مطابق ، گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا چاہتے ہیں ۔ نفاذ شریعت کے سلسلہ میں پہلا کام یہ ہے کہ سیاسی تحریک چلانے سے پہلے فکری تحریک چلائی جائے ۔ لوگوں کی ذہنی اصلاح کر کے ان کے اندر قبولیت کا مادہ پیدا کیا جائے ۔ اور جب لوگوں میں قبولیت کا مادہ پیدا ہو چکا ہو اس کے بعد قانون کا نفاذ کیا جائے ۔ رسول اللہ ﷺ نے عرب میں یہی تدریجی طریقہ اختیار فرمایا ۔ موجودہ زمانہ کا نام نہاد انقلابی طریقہ اسلامی طریقہ نہیں۔ وہ مارکس اور لینن کی تقلید ہے نہ کہ پیغمبر اسلام کی تقلید ۔ موجودہ قسم کی ہنگامہ آرائیوں سے نہ اسلامی قانون نافذ ہوا ہے اور نہ وہ آئندہ کبھی نافذ ہو سکتا ہے ۔ اس قسم کی تحریکیں اسلام کی خدمت نہیں ہیں بلکہ وہ صرف اسلام کو بدنام کرنے کا ذریعہ ہیں۔ سوال اسلام کا پولیٹیکل سسٹم کیا ہے ۔ اسلام میں ریاست کا ہیڈ کس طرح مقرر کیا جائے گا ۔ اگر شورٹی کے ذریعہ صدر ریاست کا انتخاب ہو تو اس انتخاب کا طریقہ کیا ہے۔ امریکہ کے مسلمانوں میں اس معاملہ میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ جو مسلمان جس ملک سے یہاں آئے ہیں وہ اپنے ہی ملک کے رائج اسلامی تعبیر کے مطابق اس کا جواب دیتے ہیں ۔ اس معاملہ میں صحیح بات کیا ہے ۔ (ڈاکٹر غنی خاں ، میامی ، امریکہ )

جواب

اس معاملہ میں اسلام میں کوئی واحد متعین طریقہ نہیں ہے ۔ قرآن یا حدیث میں سیاسی معاملات کے بارے میں صرف بنیادی یا اساسی تعلیمات موجود ہیں۔ مزید یہ کہ اسلام میں چار خلیفہ کو معیاری مانا گیا ہے۔ مگر چاروں کے معاملہ میں انتخاب کا طریقہ الگ الگ تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سیاسی سسٹم کا معاملہ نماز جیسا نہیں ہے۔ نماز کا

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page