اضاعت صلاۃ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۴۲
(العلم) میں روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ بعد کے زمانہ میں امت کا یہ حال ہو جائے گا کہ ان کی مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوئی ہوں گی مگر ان کی نمازیں خشوع سے خالی ہوں گی حتّیٰ کہ تم ان میں ایک بھی خاشع آدمی نہیں دیکھو گے (فلاتری فیہ رجلا خشعا) دور زوال میں ایسا کیوں ہوتا ہے کہ نماز کی شکل باقی رہتی ہے مگر نماز کی روح غائب ہو جاتی ہے۔ قرآن کے الفاظ میں اس کا سبب اتباع شہوات ہے۔ اس وقت ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی خواہشیں ان کے اوپر غالب آ جاتی ہیں۔ وہ دنیوی اور مادی مفاد کو اولین اہمیت دے دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نماز کے فارم کو اس کی اسپرٹ سے الگ کر دیتے ہیں۔ وہ اسپرٹ کو چھوڑ کر فارم کو اختیار کر لیتے ہیں۔
اتباع شہوات کی بنا پر ان کا مزاج یہ ہو جاتا ہے کہ ان کے مادی مفادات محفوظ رہیں اور اسی کے ساتھ وہ نمازی بھی بنے رہیں۔ یہ مقصد نماز کو باعتبار فارم لینے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ نماز کو اگر اس کی اسپرٹ کے ساتھ لیا جائے تو وہ مادی مفادات کے لئے قاتل بن جائے گی لیکن جب نماز کو صرف اس کی شکل کے اعتبار سے لے لیا جائے تو بیک وقت دونوں فائدے حاصل ہو جاتے ہیں۔
اب یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ آدمی کے مفادات بھی محفوظ رہیں اور اسی کے ساتھ نمازی ہونے کا کریڈٹ بھی اس کو حاصل ہو جائے۔
اس آیت میں توبہ سے کیا مراد ہے۔ یہاں توبہ سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی اس غلطی پر متنبہ ہو کہ اس نے خدا کے دین میں ایک عظیم جسارت کی ہے۔ اس نے نماز کی اسپرٹ کو اس کے فارم سے الگ کر دیا ہے۔ اس انتباہ کے بعد وہ اپنی غلطی کی اصلاح کرے یعنی نماز کے فارم کے ساتھ اس کی اسپرٹ کو بھی اس میں شامل کرے۔ وہ اس کا مل نماز کا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues