اضاعت صلاۃ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۴۳
نمازی بن جائے جس کو قرآن میں صلاة خشوع (المومنون۔ ۲) کہا گیا ہے۔
جب وہ ایسا کرے گا تو اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوگا کہ نماز کے ساتھ اتباع شہوات کا جمع ہونا نا ممکن ہو جائے گا۔ نماز اگر اسپرٹ کے بغیر ہو تو ایسی نماز کسی آدمی کے لئے برائیوں کے خلاف چک نہیں بنتی مگر جو نماز اسپرٹ کے ساتھ ہو وہ عین اپنے مزاج کے مطابق برائیوں سے روکنے والی بن جاتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے کہ "ان الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر" (العنكبوت) تحاکم الی الطاغوت قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں ارشاد ہوا ہے اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اصحاب امر کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، یہ بات اچھی ہے اور اس کا انجام بہتر ہے۔ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے ہیں اس پر جو اتارا گیا ہے تمہاری طرف اور جو اتارا گیا ہے تم سے پہلے، وہ چاہتے ہیں کہ اپنا قضیہ لے جائیں طاغوت کی طرف، حالانکہ ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کو نہ مانیں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر بہت دور ڈال دے (۵۹-۶۰)
یہ آیت مدینہ کے ابتدائی دور میں اتری۔ اس وقت مشترک سماج قائم تھا۔ چنانچہ لوگوں کے لئے اپنے معاملات کا فیصلہ لینے کی دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ وہاں کے یہودی عالم کعب بن اشرف کے پاس جاکر اس کے سامنے اپنا معاملہ بیان کیا جائے اور اس سے فیصلہ لیا جائے۔ یہودی علماء سے فیصلہ لینے کی یہ روایت صدیوں سے مدینہ میں چلی آہی تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues