اضاعت صلاۃ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۴۴
دوسرا یہ کہ معاملہ کے دونوں فریق رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کرائیں رسول اللہ ﷺ معاملات کا فیصلہ خدائی شریعت کے مطابق کرتے تھے۔ اس کے مقابلے میں کعب بن اشرف خدائی شریعت کا پابند نہ تھا۔ اس کے یہاں یہ امید ہوتی تھی کہ کوئی لفظی یا عملی تدبیر کر کے غلط طور پر اپنے حق میں فیصلہ لے لیا جائے ۔
مدینہ کے مخلص مسلمانوں کے درمیان جب بھی کوئی نزاع پیدا ہوتی تو وہ ہمیشہ اس کو لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے۔ ان لوگوں کے پیش نظر یہ نہیں ہوتا تھا کہ کسی نہ کسی طرح اپنے حق میں فیصلہ حاصل کر لیں ۔ بلکہ ان کا جذبہ یہ ہوتا تھا کہ زیر بحث معاملہ میں خدائی شریعت کا جو حکم ہے اس کو معلوم کریں اور پھر اس کو پوری آمادگی کے ساتھ قبول کر لیں ۔
تا ہم مدینہ میں کچھ غیر مخلص اور مفاد پرست مسلمان بھی تھے جن کو منافق کہا جاتا ہے۔ غیر مخلص یا منافق مسلمان زیادہ تر وہ لوگ تھے جو یہودی قبائل سے نکل کر مسلمان ہوئے تھے۔ اس زمانہ کے یہودی چونکہ اپنے دور زوال میں تھے ان میں ہر قسم کی اخلاقی کمزوریاں آچکی تھیں۔ اس لئے جو لوگ ان یہودی نسلوں سے نکل کر اسلام میں آئے وہ اپنی قومی کمزوریاں بھی اپنے ساتھ لائے۔ انھوں نے اسلام تو قبول کر لیا تھا مگر اخلاقی اعتبار سے وہ انھیں کمزوریوں کا شکار تھے جو اس زمانہ کے یہودیوں میں عام طور پر پائی جارہی تھیں۔ مذکورہ قسم کے کمزور ایمان والے مسلمانوں سے جب کسی شخص کی نزاع پیش آتی تو وہ اپنے مفاد پرستانہ مزاج کے تحت یہ چاہتے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے موافق فیصلہ حاصل کرے ۔ چونکہ اس طرح کا ناحق فیصلہ رسول اللہ ﷺ سے نہیں مل سکتا تھا اس لئے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues