قساوت قلب
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۴۵
وہ اپنا مقدمہ لے کر کعب ابن اشرف کے پاس جاتے، کیونکہ ان کو امید ہوتی تھی کہ اس یہودی عالم کے یہاں سے وہ اپنے موافق فیصلہ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مذکورہ آیت میں اس قسم کے غیر مخلص مسلمانوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ تم اپنے معاملہ کا فیصلہ لینے کے لئے طاغوت (یہودی عالم) کے یہاں جاتے ہو۔ صرف اس لئے کہ اپنی خواہش کے مطابق وہاں سے فیصلہ حاصل کرو مگر اس قسم کا فعل خدا کی نظر میں سخت گناہ ہے۔ یہ شیطان کی پیروی ہے نہ کہ حق کی پیروی۔ جو چیز شرعی طور پر آپ کا حق نہ ہو اس کو غیر شرعی ذریعہ سے حاصل کرنے کی کوشش کرنا ایک جرم ہے۔ مزید یہ کہ غیر شرعی ذریعہ سے ایسی چیز کسی کو مل جائے تب بھی وہ اس کی نہیں ہوگی۔ پھر بھی خدا کی نظر میں وہ غاصب قرار پائے گا۔ اور آخرت میں سخت سزا کا مستحق ہوگا۔
قساوت قلب
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کسی مسلم قوم پر جب لمبی مدت گزر جائے تو اس کے افراد کے دلوں میں قساوت پیدا ہو جاتی ہے۔ (الحدید۔ ۵۳) اس قساوت کو قرآن میں دل کا مرض بتایا گیا ہے (الحج۔ ۵۳) یہ قساوت بڑھتے بڑھتے اس نوبت کو پہنچ جاتی ہے کہ لوگوں کے دل پتھر کی طرح غیر اثر پذیر ہو جاتے ہیں (البقرہ۔ ۷۴)
جن لوگوں کے دلوں میں یہ قساوت آجائے وہ نہایت آسانی سے شیطان کی تزئین کی شکار ہو جاتے ہیں (الانعام۔ ۴۳) قساوت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے سینے میں خدا کی یاد والی کیفیات کا پیدا ہونا ختم ہو جاتا ہے (الزمر۔ ۳۹) قساوت کا آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی خدا کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کو قرآن میں لعنت کہا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues