Al-Risala · August 1999 · page 46

قساوت قلب

الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۴۶

گیا ہے۔ (المائدہ۔ ۱۳)

امام مالک نے اپنی مؤطا میں ایک حدیث نقل کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جس دل کے اندر قساوت ہو وہ اللہ سے بہت دور ہو جاتا ہے۔ (فان القلب القاسى بعيد من الله) موطا الامام مالك ٦٩٨- قساوت کا مطلب ہے سخت ہونا۔ کہا جاتا ہے: حجر قاس۔ یعنی سخت پتھر۔ اسی طرح کہا جاتا ہے: ارض قاسية: یعنی بنجر زمین۔ سختی کی یہی صفت جب کسی دل میں پیدا ہو جائے تو اس کو قلب قاسی کہا جائے گا۔ یعنی بے حس قلب، ایسا دل جس کے اندر سے حساسیت رخصت ہو گئی ہو، جس کا حال یہ ہو جائے کہ وہ برائی کرے تو اس کی شناعت پر اس کا دل نہ تڑپے۔ گناہ کا احساس اس کی آنکھوں سے آنسو بن کر نہ نکلے۔

اسی کا نام قساوت یا بے حسی ہے۔ یہ قساوت تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ قساوت کا نقصان یہ ہے کہ اس کے بعد آدمی کے اندر سے ایمانی حساسیت ختم ہو جاتی ہے۔ بے حسی کا مطلب ہے دل کا مر جانا، اور حساسیت کا مطلب ہے دل کا زندہ رہنا۔ جن لوگوں کے دل زندہ ہوں انھیں کے اوپر خدا کا فیضان اترتا ہے۔ انھیں فرشتوں کی صحبت نصیب ہوتی ہے۔ دل کی یہ زندگی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ ان کو خدا کے پسندیدہ اعمال کی توفیق ملتی رہے۔ ان کی روحانی ترقی کا سلسلہ برابر جاری رہے یہاں تک کہ ان کی شخصیت وہ ربانی شخصیت بن جائے جس کو آخرت میں خدا کا پڑوس ملے گا، جس کا دوسرا نام جنت ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے دلوں میں قساوت آجاۓ وہ اندر سے ایک مردہ انسان کی مانند ہو جاتے ہیں۔ ان کے اندر وہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے جو انھیں خدا سے قریب کرے، جو انھیں فرشتوں کا ہم نشیں بنائے۔ ایسے لوگوں کا دل اس طرح سخت ہو جاتا

‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues

Printed page