قساوت قلب
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۴۷
ہے کہ وہ کسی تڑپانے والی بات پر نہ تڑپے۔ ان کی آنکھیں اس طرح خشک ہو جاتی ہیں کہ وہ آنسوؤں کا دریا بہانے والی بات پر بھی آنسو نہ بہائیں۔
حساس آدمی کو جب شیطان بہکاتا ہے تو وہ اپنی حساسیت کی بنا پر فوراً اس سے باخبر ہو جاتا ہے۔ اور اللہ کی طرف رجوع کر کے اسی وقت اپنی اصلاح کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ بے حس ہو جائیں، شیطان نہایت آسانی کے ساتھ ان کو بہکانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ ان کو تباہی کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔
اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے: جو لوگ ڈر رکھتے ہیں، جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فورا چونک پڑتے ہیں اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آ جاتی ہے۔ اور جو شیطان کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے چلے جاتے ہیں پھر وہ کمی نہیں کرتے (الاعراف۔ ۲۰۱۔ ۲۰۲)
اب سوال یہ ہے کہ جو مرد یا عورت اپنے اندر قساوت یا بے حسی کی یہ بیماری پائیں وہ اپنی اصلاح کے لئے کیا کریں۔ اور کس طرح اپنے مردہ دل کو دوبارہ وہ دل بنائیں جس کے اندر زندگی اور حساسیت موجود ہو۔ اس سوال کا جواب ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ عن عبدا لله بن عمر رضى الله عنه : قال قال رسول الله ﷺ إن هذه القلوب تصدأ كما يصدأ الحديد إذا اصابه الماء. قيل يا رسول الله وما جلاؤها قال كثرة ذكر الموت وتلاوة القرآن (مشكاة المصابيح الجزء الاول صفحه ٦٦٦) حضرت عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دلوں کو زنگ لگتا ہے جس طرح لوہے کو پانی کے اثر سے زنگ لگتا ہے۔ پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسول اس کی جلا کیا ہے آپ نے فرمایا کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرنا اور قرآن کی بہت زیادہ تلاوت کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues