قساوت قلب
الرسالہ، اگست ۱۹۹۹، صفحہ ۴۸
حدیث میں آیا ہے کہ موت کی یاد لذتوں کو ڈھادینے والی ہے (مشکواۃ المصابیح الجزء الاول ص ۵۰۴) انسان کے اندر جب بھی بے حسی آتی ہے تو وہ اس لئے آتی ہے کہ وہ مادی چیزوں میں لذت لینے لگتا ہے۔ وہ وقتی رونقوں میں گم ہو کر زیادہ اعلیٰ اور ابدی حقیقتوں کو بھول جاتا ہے۔ اس کمزوری کا سب سے زیادہ کار گر علاج موت کی یاد ہے۔ موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ کسی بھی لمحہ وہ موجودہ دنیا کو چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا۔ کسی بھی لمحہ وہ وقت آجائے گا جب کہ اس کا رشتہ اس کی پسندیدہ چیزوں سے ٹوٹ جائے۔ اس طرح موت کا تصور آدمی کو ان چیزوں سے بے رغبت کر دیتا ہے جن میں پھنس کر وہ بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے موت آدمی کو متنبہ کرتی ہے کہ کسی بھی وقت وہ ایک ایسے بھونچال کی زد میں آسکتا ہے جس کو لوٹانے کی طاقت اس کے اندر نہیں۔ یہ احساس اگر کسی کو پوری شدت کے ساتھ ہو جائے تو وہ اس سے اتنا زیادہ ہل جائے گا کہ اس کا جمود ٹوٹ جائے اور اس کے سینہ میں حساسیت کا سوکھا ہوا چشمہ رواں ہو جائے۔
مردہ قلب کو از سر نو زندہ کرنے والی دوسری چیز قرآن کی تلاوت ہے۔ قرآن کیا ہے، وہ خدا کے جلال کا اظہار ہے وہ قیامت اور آخرت کے زلزلہ خیز واقعات کا بیان ہے، وہ جمود شکن الفاظ میں یہ بتاتا ہے کہ انسان کی کامیابی کس چیز میں ہے اور ناکامی کس چیز میں۔ قرآن ایک خدائی نصیحت نامہ ہے جو اپنے زلزلہ خیز انداز کی بنا پر قلب ودماغ کو ہلا دینے والا ہے۔ اس بنا پر جب کوئی شخص بار بار قرآن کو پڑھتا ہے تو اس کی شخصیت ہل جاتی ہے۔ قرآن کا پر شکوہ انداز اس کو تڑپا دیتا ہے یہاں تک کہ بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے سینہ میں دوبارہ ربانی کیفیات کا چشمہ اہل پڑے۔ خدا کی عظمتوں کا احساس اس کی آنکھوں سے آنسو کی شکل میں بہہ نکلے۔ اس کی بے حسی آخر کار حساسیت میں تبدیل ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1999 All issues