Al-Risala · January 1999 · page 43

عملی حالات کی رعایت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۳

ایک معلوم اور متعین طریقہ ہے مگر ٹھیک اسی طرح سیاست کا کوئی واحد مقرر سسٹم نہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اسلام میں سیاسی معاملات کے بارے میں کافی آزادی دی گئی ہے۔ قرآن و حدیث سے سیاست کے بنیادی اصول کو لے کر ہم اپنے حالات کے لحاظ سے اس کا آزادانہ نقشہ بنا سکتے ہیں۔ جب تک اسلام کی کسی تعلیم کی کھلی خلاف ورزی نہ ہو حالات کی مطابقت سے بنایا ہوا ہر ڈھانچہ اسلامی ڈھانچہ ہوگا۔

سوال

ایک سوال یہ کیا جاتا ہے کہ آپ نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کے خلاف کتاب اس لئے لکھی کہ انھوں نے آپ کے اعتراضات کا جواب نہیں دیا۔ لیکن آپ نے بھی تو ایسا ہی کیا۔ آپ کے خلاف تنقیدیں چھپتی ہیں مگر آپ ان کا جواب نہیں۔ (محمد خالد ندوی) جواب ایک صورت یہ ہے کہ معترض خط کی صورت میں براہ راست اپنا اعتراض لکھ کر بھیجے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنا اعتراض یا تنقید اخبار اور رسالے میں شائع کرے۔ علماء اسلام کا مسلک یہ ہے کہ وہ براہ راست کئے گئے اعتراض کا جواب تو دیتے ہیں مگر چھپنے والے اعتراض کے بارے میں زیادہ تر خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ میرا مسلک بھی یہی ہے۔ مولانا مودودی کو میں نے کتاب چھپنے سے پہلے اپنے اعتراض لکھ کر بذریعہ ڈاک بھیجے تھے مگر اصرار کے باوجود انھوں نے جواب نہیں دیا۔ اس بنا پر دونوں معاملہ یکساں نہیں۔ خط کے ذریعہ موصول ہونے والے اعتراض کا جواب میں ہمیشہ دیتا ہوں۔ مگر چھپے ہوئے مضمون کا جواب صرف اس وقت دیتا ہوں جب کہ وہ سب و شتم نہ ہو بلکہ اس میں واقعہ کوئی قابل وضاحت نکتہ موجود ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page