Al-Risala · September 1999 · page 4

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴

میں ایک غیر سیاسی آدمی ہوں میری بیشتر زندگی تنہائی میں گزری ہے۔ تاہم تاریخی اعتبار سے میرا تعلق اس نسل سے ہے جس کو تقسیم (۱۹۴۷) سے پہلے کے ہندوستان کو سن شعور میں دیکھنے کا موقع ملا۔ جس نے مولانا حسین احمد مدنی، پنڈت جواہر لال نہرو، سباش چندر بوس جیسے قومی رہنماؤں کی تقریریں اس وقت سنیں۔ جب کہ ہندوستان کی آزادی ابھی بہت دور دکھائی دے رہی تھی۔ جس نے ۱۹۳۶ کے پہلے الیکشن کو براہ راست دیکھا، جس نے ۱۹۴۷ سے پہلے بابری مسجد (ایودھیا) میں داخل ہو کر وہاں نماز پڑھی۔ جس نے اس ہندوستان کو دیکھا جب کہ ریلوے اسٹیشنوں پر ہندو پانی اور مسلم پانی کے الگ الگ بورڈ ہوا کرتے تھے۔ اور اس ہندوستان کو بھی جہاں اس قسم کے بورڈ ختم کر دیئے گئے ہیں۔ اس وقت کو بھی دیکھا جب کہ میرے وطن اعظم گڑھ میں صرف ایک موٹر کار تھی۔ اور آج کو بھی جب کہ اعظم گڑھ میں (اور اسی طرح ہر مقام پر) کثیر تعداد میں کاریں رات دن سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جس نے ”غلامی“ کے زمانہ کو بھی دیکھا اور ”آزادی“ کے زمانہ کو بھی۔

براہ راست اور بالواسطہ مشاہدہ کی یہ مدت تقریبا سو سال کے دائرہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس طویل مدت میں میں نے جو کچھ دیکھا اور جو پڑھا اور جانا وہ ایک لمبی کہانی ہے جو انشا ءاللہ میری سوانح عمری میں جگہ پاسکے گی۔ یہاں اس کے بعض اجزا درج کئے جاتے ہیں جو موجودہ حالات کو سمجھنے میں شاید رہنما بن سکیں۔

اس کا نام میں نے ”ہند پاک ڈائری“ رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تحریریں کسی تاریخی ترتیب پر مشتمل ہیں۔ یہ حقیقۃً مختلف تاثرات اور مشاہدات ہیں جو تاریخی ترتیب سے زیادہ ذوقی ترتیب پر مشتمل ہیں۔ ان تحریروں کو میں نے حوالوں سے بوجھل کرنا پسند نہیں کیا ہے بلکہ زیادہ تر تاثراتی انداز کو اختیار کیا ہے، اور میرا خیال ہے کہ دونوں ہی انداز کی اپنی الگ الگ افادیت ہے۔

اس مجموعہ کا مقصد یہ جاننے کی کوشش کرنا ہے کہ پچھلے سو سال کی ہنگامہ خیز جدوجہد کے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues

Printed page