الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۵
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۹، صفحہ ۵
باوجود کیا وجہ ہے کہ ہماری تباہی کا خاتمہ نہ ہو سکا۔ اس معاملہ میں راقم الحروف کا جو نقطۂ نظر ہے اس کو واضح کرنے کے لئے یہاں ایک مثال درج کی جاتی ہے۔
۱۹۴۷ء کے بعد پیش آنے والے واقعات میں شاید سب سے زیادہ ہنگامہ خیز واقعہ وہ ہے جو بابری مسجد (ایودھیا) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس مسئلہ میں ہند و اور مسلمان دونوں گہرے طور پر شامل ہوئے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ مسئلہ اپنی ذات میں بہت زیادہ اہم ہے۔ اس کا اصل سبب یہ تھا کہ اس مسئلہ کو انتہائی غیر متناسب طور پر ابھارا گیا۔ اور اس ابھارنے میں ہند و اور مسلمان دونوں یکساں طور پر شریک تھے۔
ایک طرف ہند و رہنمائوں اور دانشوروں نے، ہندوئوں کو گری لال جین (وفات ۱۹۹۳) کی زبان میں یہ کہہ کر ابھارا کہ یہ تمہارے لئے دوسری شکست (second defeat) کا مسئلہ ہے۔ ۱۹۴۷ء میں بٹوارہ کے سوال پر تم کو مسلمانوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی، اب ایودھیا کے سوال پر ہمیں دوسری بار شکست کو قبول نہیں کرنا ہے۔
دوسری طرف مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والوں نے، خواہ وہ بے ریش ہوں یا بار یش بیک زبان مسلمانوں سے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ صرف ایک مسجد کا سوال نہیں ہے بلکہ وہ ملت مسلمہ کی بقا کا سوال ہے۔ بابری مسجد اس ملک میں ملت کی بقا کی علامت ہے۔ بابری مسجد اگر ڈھائی گئی تو اس ملک میں مسلمانوں کا پورا ملی وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔
یہ دونوں ہی باتیں سراسر بے بنیاد تھیں ۔ بابری مسجد کا مسئلہ نہ تو ہندوئوں کے لئے دوسری شکست کا مسئلہ تھا، اور نہ مسلمانوں کے لئے ملت کی بقا کا مسئلہ۔ مگر اس قسم کی سنسنی خیز باتیں کہہ کر دونوں فرقوں کو اس طرح ابھارا گیا کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ یہ صف آرائی اتنی بڑھی کہ ایودھیا کا سوال دونوں فرقوں کے لئے وقار کا سوال بن گیا۔ جب کسی مسئلہ کو وقار کا مسئلہ بنا دیا جائے تو مسئلہ کے حل کے امکانات بڑھتے نہیں بلکہ خطر ناک حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ یہی مسجد مندر کے جھگڑے میں ہوا۔ جیسا کہ معلوم ہے ہندوستان میں تقسیم کے وقت سرحدی علاقوں میں ہزاروں مسجدیں ڈھائی گئیں خود مسلم دنیا میں بھی تقریباً ہر
‹ Previous page Next page › Contents of September 1999 All issues