Read
Al-Risala, September 1999
- p. 51 The Qur'an Rs. 295.00 Tr. T.B. Irving The Koran
- p. 52
- p. 53 Al-Risāla
- p. 54 عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر ، مولانا وحید الدین
- p. 55 زیر سرپرستی
- p. 4 میں ایک غیر سیاسی آدمی ہوں میری بیشتر زندگی
- p. 5 باوجود کیا وجہ ہے کہ ہماری تباہی کا خاتمہ
- p. 6 مسلم ملک میں کثرت سے مسجدیں ڈھائی گئی ہیں۔
- p. 7 آج بر صغیر ہند میں ہر سوچنے والے انسان
- p. 8 وجود میں لانے کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ حالانکہ
- p. 9 نہایت خوشگوار تعلقات تھے۔ یہی حال اس پورے خطہ
- p. 10 کریں۔ یعنی اس ملک سے مسلمانوں کا خاتمہ کر
- p. 11 Prima facie it stands rejected.
- p. 12 عورت ساز فیکٹری موجود ہے۔
- p. 13 اسی کے ساتھ آزادی کی تحریک سے متاثر تھے۔
- p. 14 آئند بھون سے کیا غرض اب ہر دل ہے نشیمن جواہر
- p. 15 عجیب رومانی ماحول تھا۔ ۱۵ اگست کی اس رات
- p. 16 (LOUIS) بتایا تھا، وہ مجھ کو اپنی گاڑی میں
- p. 17 I love Gandhi but I love India more than Gandhi
- p. 18 ٹیلی فون کیا۔ میں نے کہا: یہ بتائیے کہ
- p. 19 بھِیٹر نے بابری مسجد کو ڈھا دیا تو تمام
- p. 20 کے بارے میں جاننے کی کوئی کوشش کی۔ آج
- p. 21 انیسویں صدی کے نصف آخر میں جب لندن گئے
- p. 22 یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ بر صغیر ہند
- p. 23 ہندو مسلم اتحاد کے مقصد کے تحت ایک اردو
- p. 24 در انتقام کا ایک لامتناہی سلسلہ برصغیر ہند میں
- p. 25 اپنے بعد کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو مثبت
- p. 26 توہین کی ہے۔ سب سے پہلے وہ یہاں آکر
- p. 27 وہاں کے لوگوں میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی۔
- p. 28 مہاتما گاندھی کا کہنا تھا کہ یہ نزاعات زیادہ
- p. 29 جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسلام اور ہندوازم
- p. 30 کے درمیان خونیں لڑائی ہوئی۔ پہلی اور دوسری عالمی
- p. 31 کے لئے زندگی کی واحد ضمانت یہ ہے کہ
- p. 32 ساتھ ملایا تو پاکستانی حکومت کی درخواست پر نئی
- p. 33 ۱۹۲۹ میں ہوا۔ وہ نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ
- p. 34 نہ کر سکا۔ ۱۹۷۳ کے بعد کے واقعات میں
- p. 35 یہ حال صرف ہمارے علاقہ کا نہیں تھا بلکہ
- p. 36 اس حیثیت سے بر صغیر ہند کی سیاست کا
- p. 37 کھڑے ہو کر کہتے کہ جناح صاحب مجھ سے
- p. 38 کے نمائندہ عبد الرب نشتر کے بجائے کانگریس کے
- p. 39 ہندوؤں کی باتیں سننے یا ان کی کتابیں پڑھنے
- p. 40 ان کو گھٹا کر پیش کرتے ہیں یا سرے
- p. 41 جب اپنے ملک میں ہوتے ہیں تو عام طور
- p. 42 یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ انسان خود اپنی
- p. 43 اس کے بعد ہمارے حکمراں دیکھتے کہ وہ کروڑوں
- p. 17 Marxism a rejected idealogy
- p. 45 راج کا نام دیا تھا۔ تاہم راج گوپال اچاری
- p. 46 کو کسی سرکاری ونڈو پر لائن لگانے کی ضرورت
- p. 47 ہے جو اس وقت کی نرسمہا راؤ گورنمنٹ میں
- p. 48 لکھ سکے البتہ ہم نے اسمبلی کے کے کاغذ
- p. 49 اس موقع پر جماعت اسلامی پاکستان نے ایک لمبا
- p. 50 جائے تو اللہ کی یاد کی طرف چل پڑو