Al-Risala · January 1999 · page 45

عملی حالات کی رعایت

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۵

۴۔ نو بھارت ٹائمس (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر راوت نے ۵ ستمبر ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیڈر جو پاکستان کے اسلامی کرن کی بات کرتے ہیں ان کو سب سے پہلے خود اپنا اسلامی کرن کرنا چاہئے۔ پاکستان کا ایک ایک لیڈر بھر شٹاچار میں ڈوبا ہوا ہے۔ اگر سچ مچ وہ اسلام چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں اپنی زندگیوں میں اسلام کی تعلیمات کو اپنانا چاہئے۔ ۵۔ سینٹ اسٹیفنس کالج (نئی دہلی) میں ۱۶ ستمبر ۱۹۹۸ کو ایک اجتماع (Assembly) تھا۔ اس میں کالج کے طلبہ اور اساتذہ شریک ہوئے۔ کالج کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور لوگوں سے خطاب کیا۔ ان کی تقریر کا موضوع تھا : اسلام کے بارے میں غلط نہی۔ تقریر میں مختلف غلط فہمیوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن وحدیث کی روشنی میں ان کا جواب دیا گیا۔ اور اسلام کی صحیح تصور پیش کی گئی۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ اسلام کو خود اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں دیکھنا چاہئے نہ کہ مسلمانوں کے عمل کی روشنی میں۔

۶۔ ساون کرپال روحانی مشن کا دس روزہ سمیلین نئی دہلی میں ہوا۔ اس کی دعوت پر اس کے آخری دن ۲۰ ستمبر ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور روحانیت کے اسلامی تصور پر ایک تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ روحانیت کا مطلب دنیا سے الگ رہنا نہیں ہے۔ بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے اندر روحانی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے۔

۷۔ ٹی وی ٹوڈے (نئی دہلی) کی ٹیم نے ۲۵ ستمبر ۱۹۹۸ کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page