عملی حالات کی رعایت
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۶
ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ پچھلے پانچ سال کے اندر اس اعتبار سے ہندوستان میں نمایاں فرق ہوا ہے ۔ اب ملک میں پہلے کی طرح فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوتے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہندو مسلمان دونوں کی شعوری پختگی ہے۔ ۲۵ سالہ تجربہ کے بعد دونوں نے جان لیا ہے کہ فرقہ وارانہ فساد کا نقصان ہمیشہ دونوں فریقوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ ایک فرقہ کی طرف سے کوئی ناخوش گوار بات پیش آئے تو دوسرا فرقہ شدید رد عمل کا اظہار کرتا تھا۔ اس کا نتیجہ فساد تھا۔ اب بھی ہمارے سماج میں ناخوشگوار واقعات ہوتے ہیں مگر کوئی فرقہ شدید رد عمل کا اظہار نہیں کرتا۔ اس لئے فساد کی نوبت بھی نہیں آتی۔
۸۔ گاندھی جینتی کے موقع پر اکتوبر ۱۹۹۸ کے پہلے ہفتہ میں بھوپال میں ایک سیمنار ہوا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور مختلف اجتماعات کو خطاب کیا۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کردی جائے گی۔ ۹۔ زی ٹی وی (نئی دہلی) نے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۸ کو ایک پینل ڈسکشن ریکارڈ کیا۔ اس میں اسلام کی طرف سے صدر اسلامی مرکز اور ہندو دھرم کی طرف سے بیکنٹھ لال شرما پریم اور مسیحیت کی طرف سے فادر جوٹل ڈی کو تھے تھے۔ اس کا موضوع کنورزن تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مذہبی آزادی اور کنورزن دونوں لازم ملزوم ہیں۔ چونکہ انڈیا اپنے شہریوں کو مذہبی آزادی دینے کا پابند ہے اس لئے یہاں کے شہریوں کو کنورزن کا حق بھی لازماً حاصل رہے گا۔ یہ کہنا کہ کنورزن جبری ہوتا ہے بے معنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ جبری کنورزن ہوا ہے۔ اس کے فیصلہ کا حق صرف کورٹ کو ہے۔ کسی تھرڈ پارٹی کو اس کا حق ہرگز حاصل نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues