Al-Risala · January 1999 · page 48

ہے ۔ جو غمہ مادہ کی حقیقتوں

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۹، صفحہ ۴۸

روحانیت کیا ہے علم بیانه کو ۴۳۴۷۳۰۰۳۴۴۰۴۳ روحانیت لیا ہے۔ روحانیت وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ربانیت کہا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو، ربانی بنو (۳۔ ۷۹) اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہا جاسکتا ہے کہ۔ ۔۔ اے لوگو، روحانی بنو۔

روحانی فضا او رماحول کا الٹا اثر اس کی زندگی نگاراکےط روحانی کا لفظ مادی کا الٹا ہے۔ اس دنیا میں زندگی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اادی مادی بن کریئے ۔ وہ مادی چیزوں میں لو لگائے۔ وہ مادی چیزوں یا ظاہری چیزوں کو اپنے شوق اور توجہ کا ہیں، ربیع الاول میں مدینہ میں پیروں میں باندھ کر یا ہاتھوں میں پیروں مرکز بنائے۔ ایسے انسان کو مادی انسان کہا جا سکتا ہے۔

دوسرا انسان وہ ہے جو مادیات سے اوپر اٹھ کر زندگی گزار چُپ رہ کر دیا۔

ہے ۔ جو غمہ مادہ کی حقیقتوں

دوسرا انسان وہ ہے جو مادیات سے اوپر اٹھ کر زندگی گزارتے ہیں۔ جو غیر مادی میں اپنے لئے دلچسپی کا سامان پالے۔ جس کی خوشیاں غیر مادی چیزوں کے ساتھ وابستہ ہو جائیں ۔ اسی دوسرے قسم کے انسان کا نام روحانی انسان ہے۔

آپ ایک شاندار مکان کے مالک ہیں ، مالک کی طرف روقار، کار کے جوڑ توڑے ہو آپ ایک شاندار مکان دیکھتے ہیں یا ایک زرق برق کار سٹروک پر دوزی ہوئی آپ کو نظر آتی ہے۔ یہ منظر آپ کے دل کو کھینچ لیتا ہے۔ آپ چاہنے لگتے ہیں کہ آپ کے پاس بھی اک شاندار مکان اور ایک شاندار کار ہو۔ اسی کا نام مادی ذہنیت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو مادیات میں جینا کہا جاتا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کے سامنے خوش نما یا شاندار مکان آیا تو وہ معانی کی دنیا میں اتنا زیادہ گم تھا کہ ان ظاہری چیزوں کی طرف وہ راغب ہی نہ ہو سکا۔ وہ معنوی حقیقتوں کی زیادہ بہتر دنیا میں جی رہا تھا۔ اس لئے مادی ظواہر کی کمتر دنیا سے اس کو ریٹس دیڈ ، اردیٹس (دیڈ) ، اس کوئی دلچسپی نہ ہو سکی۔

ہو ر ہا ے ۔

کو پے مرنے کا

‹ Previous page Next page › Contents of January 1999 All issues

Printed page