اضداد کا مجموعہ
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۰
اضداد کا مجموعہ
ہر آدمی کے اندر "میں" کا جذبہ ہے۔ میں کو بے قید چھوڑ دیا جائے تو آدمی سرکش بن جاتا ہے۔ اور اگر اس کی میں کو کچل دیا جائے تو وہ ایک بے حمیت انسان بن جائے گا۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ ایک غیر مطلوب انسان ہو گا جو انسانیت کے لئے ایک بوجھ ہے، وہ انسانیت کے لئے کوئی سرمایہ نہیں۔
میں ایک نہایت قیمتی جذبہ ہے۔ اس سے آدمی کے اندر یقین، حوصلہ، عزم، جرأت، خود اعتمادی اور مقصدی لگن جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ میں کا جذبہ نہ ہو تو یہ تمام اعلی انسانی اوصاف ختم ہو جائیں۔ مگر یہی میں ہے جو بڑھ کر سرکشی اور تکبر اور انانیت کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اس کے بعد وہ تمام بری چیزوں میں سب سے زیادہ بری چیز بن جاتا ہے۔
صحیح اور مطلوب انسان وہ ہے جو معتدل انسان ہو۔ جس کے اندر میں کے ساتھ نفی ذات بھی ہو۔ نہ ماننے کے ساتھ ماننے کا جذبہ بھی ہو۔ جرأت کے ساتھ تواضع بھی ہو۔ خود اعتمادی کے ساتھ نرم دلی بھی ہو۔ آگے بڑھنے کے ساتھ پیچھے ہٹنے کا مزاج بھی ہو۔ وہ تنقید کرنے کے ساتھ تنقید سننا بھی جانتا ہو۔ وہ فتح پر خوش ہونے کے ساتھ شکست کو تسلیم کرنا بھی جانتا ہو۔ وہ مقابلہ کے میدان کا مرد ہونے کے ساتھ صبر و اعراض کا پہلوان بھی ہو۔ وہ جوش کا مالک ہونے کے ساتھ ہوش کا سرمایہ بھی رکھتا ہو۔
بظاہر یہ ایک ایسا انسان ہے جو اضداد کا مجموعہ ہے۔ مگر مجموعہ اضداد انسان ہی در اصل کامل انسان ہوتا ہے۔ یہی وہ انسان ہے جو حقیقی معنوں میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دیتا ہے۔ یہی تاریخ ساز انسان ہے۔ یہی انسان نسل انسانی کا حاصل ہے۔ ایسے انسان نہ ہوں تو نسل انسانی سرے سے بے معنی ہو کر رہ جائے۔ زندگی کی تمام حقیقی سرگرمیاں اسی وقت وجود میں آتی ہیں جب کہ اس قسم کے اعلیٰ انسان سماج میں پائے جاتے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues