تکمیل آرزو
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۱
تکمیل آرزو
مشہور آرٹسٹ فدا حسین اگر چہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے مگر اپنی محنت اور فطری لیاقت کے ذریعہ انھوں نے مصوری کے فن میں غیر معمولی ترقی حاصل کی۔ ان کی شہرت سب سے زیادہ اس وقت بڑھی جب بمبئی کے تاج محل ہوٹل میں ایک نمائش کے دوران ایک بیرونی کمپنی نے ان کی ایک تصویر پانچ لاکھ روپیہ میں خریدی۔ اس کے بعد وہ ہندوستان کے عظیم ترین مصور کہے جانے لگے۔
ٹائمس آف انڈیا (۶ اکتوبر ۱۹۹۰) میں ان سے ملاقات کی ایک روداد شائع ہوئی ہے۔ مسٹرپال نے ان سے پوچھا کہ کیا کوئی چیز ہے جس سے آپ خوفزدہ ہوں۔ ۷۵ سالہ فدا حسین نے جواب دیا کہ نہیں۔ مگر کبھی کبھی مجھے عجیب قسم کی مایوسی ہوتی ہے وہ یہ کہ عین اس وقت جب کہ مجھے پینٹنگ میں کچھ درک حاصل ہوا، جب میں اس کے رازوں کو جاننے لگا تو میرے لئے اس دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آگیا۔ ابھی بہت سی چیزیں ہیں جن کو مجھے پینٹ کرنا ہے۔ اب بھی میں خیالات سے بھر اہوا ہوں:
At times, there is a strange sadness though. That just when I have got a grip over painting, when I have begun to grasp its mystery, it is time to pack up. There is so much I can still paint. I am still so full. یہی اس دنیا میں ہر انسان کا معاملہ ہے۔ آدمی بے پناہ آرزوؤں اور حوصلوں کو لے کر دنیا میں آتا ہے۔ وہ رات دن محنت کرتا ہے مگر اس کی آرزوؤں کی تکمیل نہیں ہوتی کہ موت کا وقت آجاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، ہر ایک غیر تکمیل شدہ حوصلوں کا ایک مزار ہے۔ یہ اس بات کا ایک سبق ہے کہ موجودہ دنیا صرف جدوجہد کی جگہ ہے۔ وہ پانے کی جگہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues