زندگی کی تعمیر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۲
زندگی کی تعمیر
۲۲ دسمبر ۱۹۸۴ کو ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور انھوں نے علم معاشیات کا خصوصی مطالعہ کیا تھا، انھوں نے کہا کہ میں ”آخری سچائی“ صرف انسانی مفاد کو سمجھتا ہوں۔ میری دلچسپی کا موضوع موجودہ دنیا کے مسائل ہیں۔ انسان کی آج کی زندگی کو کیسے بہتر بنایا جائے، بس یہی سوال میرے نزدیک اصل سوال ہے اور میں اسی کا جواب پانا چاہتا ہوں۔
میں نے کہا کہ اگر آپ فرد کے مفاد کے حصول کو اصل قرار دیں تو یہ بھی ماننا ہوگا کہ فرد کی اپنی رائے ہی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ وہ کس چیز کو اپنا مفاد سمجھتا ہے۔ مگر اس سے زیادہ مہلک اور کوئی چیز نہیں۔ اگر آپ ہر فرد کو کھلی اجازت دے دیں کہ وہ جس چیز کو اپنا مفاد سمجھتا ہے اس کو وہ بے روک ٹوک حاصل کرے تو اس کے بعد جو چیز وجود میں آئے گی وہ ایک خود غرضانہ سماج ہو گا۔ یہ ایسا سماج ہوگا جہاں ہر آدمی کا مفاد دوسرے کے مفاد سے ٹکرا رہا ہو۔ اور اگر پوری انسانیت کے مجموعی مفاد کو اصل قرار دیا جائے تو سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ انسانیت کا مجموعی مفاد کیا ہے۔ جب تک یہ بات متفقہ طور پر طے نہ ہو جائے، کوئی عملی منصوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ انسان اپنی محدودیت کی وجہ سے یہ معلوم نہیں کر سکتا کہ انسانیت کا مجموعی مفاد کیا ہے۔ اس کو جاننے کے لئے جن علوم سے کامل واقفیت درکار ہے وہ کسی ایک دماغ میں جمع نہیں ہو سکتے۔ انسان کی عمر بھی محدود ہے اور اس کی عقلی صلاحیتیں بھی محدود۔ ایسی حالت میں یہ مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے کہ انسان کبھی بھی حقیقی طور پر یہ دریافت کر سکے کہ پوری انسانیت کا مجموعی مفاد کیا ہے۔ فرد کے مفاد کو اہمیت دینا خود غرضی تک لے جاتا ہے اور مجموعی انسانیت کے مفاد کی تلاش تشکیک تک۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لئے یقین کا ذریعہ پیغمبر کی رہنمائی کے سوا اور کچھ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues