Al-Risala · October 1999 · page 13

منصوبہ حیات

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۳

منصوبہ حیات

آہ، زندگی مجھے صرف ایک بار ملی تھی، مگر میں کیسا نادان تھا کہ اس ایک بار ملی ہوئی زندگی کو بھی میں نے کھو دیا۔ یہ احساس ایک ناقابل برداشت درد بن کر اس وقت آدمی کے اوپر چھا جائے گا جب کہ وہ موجودہ مرحلہ حیات سے گزر کر موت کے دروازہ پر پہنچے گا۔ یہاں وہ اپنے ایک دورِ حیات کا خاتمہ اور اپنے دوسرے دورِ حیات کا آغاز دیکھے گا۔ اس کے پیچھے وہ دنیا ہو گی جہاں وہ اپنے قیام کی مدت پوری کر چکا۔ اور اس کے آگے وہ آخرت ہو گی جہاں اب اس کو اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتنے کے لئے داخل کر دیا جائے گا۔ اس وقت آدمی سوچے گا کہ دنیا کی زندگی کی صورت میں اس کو کتنا قیمتی موقع ملا تھا جس کو استعمال کر کے وہ اپنے اخروی مستقبل کی تعمیر کر سکتا تھا۔ مگر وہ اس موقع کو اپنے حق میں استعمال نہ کر سکا۔ یہ تلخ یاد حسرت کا ایک سلگتا ہوا آتش فشاں بن کر آدمی کے سینہ میں دہکتا رہے گا اور اس کے بعد کبھی وہ ٹھنڈانہ ہو گا۔ جو آدمی بھی اس دنیا میں پیدا ہوا ہے اس کے لئے سب سے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ وہ اپنے بارے میں خالق کے منصوبہ کو سمجھے۔ انسان کیوں پیدا ہوتا ہے۔ کیوں اس کو مختلف قسم کا سامانِ حیات دیا جاتا ہے۔ پھر کیوں ایسا ہے کہ ایک محدود مدت گزار کر ہر آدمی لازمی طور پر موت سے دوچار ہوتا ہے۔ یہ سب کیوں ہے۔ زندگی کے اس نقشہ کی معنویت کیا ہے اور اس کا آخری انجام کیا ہے۔ کون سی روش کامیابی کی طرف لے جاتی ہے اور کون سی روش ناکامی کی طرف۔ ان باتوں کو جاننا ہر آدمی کا پہلا مسئلہ ہے، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل۔ غریب ہو یا امیر۔ کمزور ہو یا طاقتور۔ وہ اہم شخصیت ہو یا غیر اہم شخصیت۔ ہر حال میں اور ہر ایک کے لئے یکساں طور پر یہ سوال سب سے بڑا سوال ہے۔ اور اس سوال کا جواب معلوم کرنا اس کی سب سے پہلی ترجیح۔ ہر آدمی پر لازم ہے کہ وہ موت سے پہلے خالق کے منصوبہ حیات کو جان لے۔ موت سے پہلے اس کو جاننا راہِ عمل کو جاننا ہے اور موت کے بعد اس کو جاننا نتیجہِ عمل کو جاننا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page