Al-Risala · October 1999 · page 14

فتح کے باوجود

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۴

فتح کے باوجود

مکہ پیغمبر اسلام کا وطن تھا۔ مگر وہاں کے لوگوں نے آپ کو اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ ظلم اور تشدد اور سرکشی کی تقریباً ۲۰ سالہ تاریخ ہے جس سے آپ کو مجبورانہ طور پر گذرنا پڑا۔ آخر کار حالات بدلے اور رمضان ۸ھ میں مکہ فتح ہو گیا۔ جس شہر سے آپ مظلومانہ نکلے تھے اسی شہر میں آپ دوبارہ فاتحانہ داخل ہوئے۔

مگر اس وقت آپ کے دل کی جو کیفیت تھی وہ اس سے بالکل مختلف تھی جو دنیا کے عام فاتحین کے یہاں نظر آتی ہے۔ دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ مکہ میں داخلہ کے وقت آپ ایک اونٹ پر سوار تھے۔ حالت یہ تھی کہ آپ اس وقت سراپا تواضع بنے ہوئے تھے۔ اللہ کے غیر معمولی شکر کے احساس نے آپ کو جھکا دیا تھا۔ یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھی اونٹ کے کجاوا کو چھونے لگی۔ (سیرت ابن ہشام ۴/ ۲۲۴)

روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ میں داخل ہو کر آپ کعبہ کے دروازہ پر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنے وعدہ کو پورا کیا، اور اپنے بندے کی مدد فرمائی، اور مخالف گروہوں کو تنہا شکست دی (لا اله الا الله وحده، لاشريك له ، صدق وعده ، ونصر عبده، وهزم الاحزاب وحده) صفحه ۳۳ فتح وہ موقع ہے جب کہ لوگ خوشی مناتے ہیں، فخر کرتے ہیں، اپنی کامیابی کا جشن مناتے ہیں۔ مگر اس قسم کی باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جن کی نظر اپنے آپ پر ہوتی ہے۔ جو فتح کو خود اپنا ایک کارنامہ سمجھتے ہیں۔ لیکن پیغمبر اسلام کی نفسیات اس سے بالکل مختلف تھی۔ ان کے لئے فتح کا واقعہ ان کا اپنا کارنامہ نہ تھا۔ وہ مکمل طور پر خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والا ایک واقعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا واقعہ جو بظاہر ان کا اپنا کارنامہ تھا، اس کو انھوں نے مکمل طور پر خدا کے خانہ میں ڈال دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page