Al-Risala · October 1999 · page 15

فتح کے باوجود

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۵

ایک واقعہ

کہا جاتا ہے کہ شیخ حسن البنا ایک بار سابق شیخ الازہر الشیخ المراغی سے ملے۔ دونوں کے درمیان مسلمانوں کی حالت کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ شیخ مراغی نے کہا کہ ان کی لڑکی ٹرین سے سفر کر رہی تھی۔ اس دوران اس کی ملاقات غیر قوم کی ایک خاتون سے ہوئی۔ دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی۔ غیر قوم کی خاتون نے ایک صحابی کا ذکر کیا اور بہت سی باتیں کیں ۔ اس سے شیخ مراغی کی لڑکی کے اندر مذکورہ صحابی کے بارے میں جاننے کاز بردست شوق پیدا ہوا۔ سفر سے واپسی کے بعد لڑکی نے مذکورہ صحابی کے بارے میں کوئی کتاب مانگی۔ والد نے اپنی لڑکی سے کہا کہ میں لمبے عرصے سے صحابہ کرام اور ان کی تاریخ اور ان کے کارناموں کے بارے میں تم کو بتا رہا ہوں۔ مگر تم نے میری بات کو اہمیت نہ دی۔ یہاں تک کہ جب اجنبی قوم کی وہ خاتون آئی اور اس نے صحابی مذکور پر گفتگو کی تو تم نے اس کی بات کو بہت توجہ کے ساتھ سنا اور اس کی گفتگو نے تم کو متاثر کر لیا۔ شیخ مراغی نے یہ قصہ بیان کرنے کے بعد حسن البنا سے کہا، اے شیخ حسن، کیا ہم حق کو اس وقت مانیں گے جب تک دوسری قوم کے لوگ اس کو نہ مان لیں۔ کیسی عجیب بات ہے (اترا نا یا شیخ حسن لن نسلم حقاً الا إذا أسلم الاجنبی اولاً ، شئ عجیب) الثقافۃ دیوبند ۱۹۸۳ اس واقعہ کو دیکھنے کے دو زاویے ہیں ایک تو یہ کہ اس کو غیرت قومی کی نظر سے دیکھا جائے ۔ دوسرے یہ کہ اس کو داعیانہ نظر سے دیکھا جائے ۔ دونوں زاویے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ قومی غیرت کی نظر سے دیکھنے میں آدمی کے اندر وہی تاثر پیدا ہو گا جو شیخ مراغی کے جملہ میں نظر آتا ہے۔ لیکن داعیانہ نظر سے دیکھئے تو صورت حال بالکل بدلی نظر آئے گی ۔ اب دیکھنے والا اس کو مسئلہ غیرت کے طور پر نہیں دیکھے گا بلکہ اس کو امکان دعوت کے طور پر دیکھے گا وہ کہے گا کہ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ غیر مسلموں میں اسلام کے مطالعہ کا نیا شوق پیدا ہو گیا ہے۔ آؤ ہم اس شوق کو استعمال کریں اور اسلامی لٹریچر کو ساری دنیا میں پھیلا دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page