زبان کا استعمال
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۶
زبان کا استعمال
عربی کا ایک مقولہ ہے: علی صامت خیر من علی ناطق (خاموش عاجز بولنے والے عاجز سے بہتر ہے) یعنی ایک آدمی کو بولنا نہیں آتا اس بنا پر وہ چپ رہا، تو ایسا شخص اس آدمی سے بہتر ہے جس کے اندر بولنے کا سلیقہ نہ تھا اس کے باوجود وہ بولا اور بات کو بگاڑ دیا۔ اس حقیقت کو حدیث میں زیادہ بہتر طور پر اس طرح کہا گیا ہے کہ۔ ۔۔ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس کو چاہئے کہ بولے تو درست بات بولے ورنہ چپ رہے (من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا او ليصمت) صحیح البخاری، کتاب الادب۔ بولنا اپنی ذمہ داری کا اظہار ہے۔ سچا بولنے والا وہ ہے جس کے ذمہ داری کے احساس نے اس کو بولنے پر مجبور کیا ہو۔ جس بولنے میں اس قسم کا جذبہ شامل نہ ہو وہ حقیقی معنوں میں بولنا نہیں ہے بلکہ خدا کی دی ہوئی صفت نطق کا بے جا استعمال ہے۔ اسلام میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان میں سے ایک اسراف ہے۔ یعنی خدا کی دی ہوئی چیزوں میں سے کسی چیز کو غیر ضروری طور پر خرچ کرنا۔ نطق بھی خدا کی ایک نعمت ہے۔ نطق کی صلاحیت کا مصر فانہ استعمال ایک ایسا فعل ہے جس پر خدا کے یہاں سخت پکڑ کا اندیشہ ہے۔
اس قسم کے استعمال پر خدا کی طرف سے پکڑ کا اندیشہ ہے نہ کہ انعام کی امید۔ آدمی کو اگر واقعئہ احساس ہو کہ نطق کی عظیم صلاحیت جو اس کو دی گئی ہے۔ وہ ایک مقصد خاص کے تحت دی گئی ہے اور وہ مقصد خاص یہ ہے کہ آدمی اپنی اس صلاحیت کو امر حق کے اظہار میں صرف کرے تو کبھی وہ غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی غلطی نہیں کر سکتا۔ وہ بولے گا تو وہی بات بولے گا جو بولنے کے قابل ہے۔ اور اگر اس کے پاس بولنے کے قابل کوئی بات نہ ہو تو وہ چپ رہے گا، نہ کہ غیر ضروری طور پر بے فائدہ کلام کرنے لگے۔ بولنا اگر کام ہے تو چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔ خدا کے یہاں اگر بولنے پر اجر ہے تو خود اس انسان کو بھی اجر دے گا جس کے احساس ذمہ داری نے اس کو بولنے سے روک دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues