Al-Risala · October 1999 · page 17

خاموش منصوبہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۷

خاموش منصوبہ

ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ ایک بار ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک مہم پر جا رہے تھے۔ راستہ میں کچھ لوگ بلند آواز سے اللہ اکبر پکارنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے سنا تو فرمایا کہ اے لوگو، خاموشی کا طریقہ اختیار کرو۔ تم جس خدا کو پکار رہے ہو وہ بہرِایا غائب نہیں ہے۔ وہ تمھارے قریب ہے اور سب کچھ سنتا اور جانتا ہے (بخاری و مسلم) اسی طرح 9 ھ میں جب آپ اپنے دس ہزار ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ نے مکمل خاموشی اور راز داری کا طریقہ اختیار فرمایا جس کی تفصیلات سیرت کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اس مہم کے دوران آپ نے جو طریقہ اختیار فرمایا وہ آپ کی اس دعا کے الفاظ میں واضح طور پر جھلک رہا ہے۔ آپ نے دعا کرتے ہوئے کہا۔ اے اللہ، میری کوئی خبر قریش کو اس وقت تک پہنچنے نہ دے جب تک میں ان کی بستیوں میں داخل نہ ہو جاؤں۔ اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ پیغمبر کا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی مقصد کو حاصل کرنا ہو تو اس کی ساری منصوبہ بندی راز داری کے ساتھ ہونی چاہئے۔ فریق ثانی کے خلاف اقدام اس طرح کیا جانا چاہئے کہ اس کو صرف اس وقت خبر ہو جب کہ واقعہ عملاً ہو چکا ہو۔ ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ راز داری سے مدد لو۔ یہ بے حد اہم ہدایت ہے۔ راز داری ایک مددگار ہتھیار ہے۔ جو لوگ اس پر امن ہتھیار کو استعمال کریں وہ ہمیشہ اپنے منصوبہ کی تکمیل میں کامیاب رہیں گے۔

یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ ایک لفظ میں اس کو خاموش منصوبہ کہا جا سکتا ہے۔ یعنی شور و غل کے طریقہ سے مکمل پر ہیز کرتے ہوئے فریق ثانی تک اس طرح پہنچنا کہ پیشگی طور پر اس کو اس کی اطلاع نہ مل سکے۔ اور اس کے لئے جوابی تیاری کرنا ممکن نہ رہے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page