Al-Risala · October 1999 · page 35

خوبی تلاش کرو

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۵

یک طرفہ ہوتی ہے۔ وہ فریق ثانی کی شخصیت کے ایک پہلو کو دیکھ کر اس سے بیزار ہو جاتا ہے حالانکہ اگر وہ فریق ثانی کے دوسرے پہلو کو دیکھے تو اس کے بارے میں اس کی رائے بالکل بدل جائے۔

مثال کے طور پر ایک شوہر اپنی بیوی کو ظاہری خصوصیات میں کم پاتا ہے اور اس بنا پر وہ اس کو ناپسند کرنے لگتا ہے۔ لیکن اس کو جاننا چاہئے کہ یہی اس کی بیوی کی کل شخصیت نہیں، عین ممکن ہے کہ ظاہری کمی کے باوجود اس کی شخصیت میں اندرونی اخلاقی صفات بہت زیادہ موجود ہوں۔ اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ کسی خاتون کے اندر سیرت و کردار کے اعلیٰ اوصاف ہونا خاندانی زندگی کے لئے زیادہ اہم حیثیت رکھتا ہے۔

فطرت کا نظام

قرآن کی سورہ نمبر ۹۰ میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان ہوا ہے کہ : لقد خلقنا الانسان فی کبد (ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے) اسی طرح قرآن میں دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کے بارے میں پیشگی طور پر یہ بتا دیا تھا کہ دنیا میں تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ بعضکم البعض عدو (البقره ۳۶)

قرآن کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ تکلیف (suffering) موجودہ دنیا کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ خود خالق فطرت کا مقرر کیا ہوا نظام ہے۔ اس لئے اس کو ختم کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں۔ یہ انسانیت کے نام قرآن کا ایک عظیم فکری تحفہ ہے۔ انسان اگر اس راز کو نہ جانے تو وہ غیر حقیقت پسند بنا رہے گا، وہ غیر ضروری طور پر ہمیشہ یہ کوشش کرے گا کہ وہ اپنے لئے ایک بے مشقت دنیا یا خرابیوں سے پاک سماج (evil-free society) بنا سکے۔ مگر ساری کوشش کے باوجود وہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہوگا۔ کیوں کہ فطرت کے قانون کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔ مگر جب وہ اس حقیقت کو جان لے گا تو وہ مسائل کے ساتھ جینے کی کوشش کرے گا اور پھر وہ اسی طرح اپنی پسند کی ایک دنیا بنا لے گا جس طرح ایک درخت کانٹوں کے باوجود پھولوں اور پتیوں کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page