اقلیت کے لئے خوشخبری
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۳۶
ذریعہ اپنی ایک پر کشش دنیا بنا لیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے مسائل انسان کے لئے مصیبت نہیں۔ وہ انسان کے لئے ترقی کا زینہ ہیں۔ یہ مسائل انسان کو بیدار کرتے ہیں۔ وہ اس کی سوئی ہوئی صلاحیتوں کو حرکت میں لاتے ہیں۔ وہ اس کے جمود کو توڑ کر اس کو مسلسل طور پر زندہ رکھنے کی ضمانت ہیں۔ مسائل زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ مزید یہ کہ وہ ایک مفید حصہ ہیں نہ کہ کوئی مضر حصہ۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان لیں وہ بے فائدہ چیزوں میں اپنی طاقت کو ضائع نہیں کریں گے۔ وہ زندگی کی اعلیٰ تعمیر میں یقینی طور پر کامیاب رہیں گے۔
اقلیت کے لئے خوشخبری
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ : کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله والله مع الصابرین (البقرة (۲۴۹)۔ یعنی کتنے ہی چھوٹے گروہ ہیں جو بڑے گروہ پر غالب آئے ہیں، اللہ کے اذن سے، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے، اس قانون کے مطابق اس دنیا میں عددی اکثریت والا گروہ اگر بظاہر برتر دکھائی دیتا ہے تو عددی اقلیت والا گروہ امکانی طور پر اس سے بھی زیادہ برتر حیثیت رکھتا ہے۔ اس دنیا میں فطرت کا قانون اکثریت سے زیادہ اقلیت کے حق میں ہے۔ اس آیت میں اقلیتی گروہ کے لئے یہ خوشخبری ہے کہ اس کو اپنی عددی کمی کی بنا پر نا امیدی اور پست ہمتی کا شکار نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کو چاہئے کہ وہ اذن اللہ (قانون فطرت) پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے اندر پر امید سوچ پیدا کرے ۔ یقینی ہے کہ کامیابی آخر کار اسی کو حاصل ہو گی۔
اقلیتی گروہ کس طرح اکثریتی گروہ پر غالب آ سکتا ہے ، اس کا جواب یہ ہے کہ جس سماج میں ایسا ہوتا ہے وہاں اکثریتی گروہ اقلیتی گروہ کے خلاف ایک مسلسل چیلنج بن جاتا ہے۔ اکثریتی گروہ زندگی کے ہر میدان میں اقلیتی گروہ کو للکار نے لگتا ہے کہ اگر تم کو جینا ہے تو ہو شیار ہو جاؤ،
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues