مستحکم سماجی نظام
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۱
کے لئے سخت مشکل ہو جاتا۔
نا موافق سیاسی حالات کے باوجود ملک میں اخلاقی روایت کے باقی رہنے کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب دوبارہ اخلاقی تعلیم کا وہ خاموش نظام ہے جو غیر سیاسی سطح پر قائم چلا آ رہا ہے۔ سو سال پہلے کے دور میں یہ نظام زیادہ تر صوفیوں کے ذریعہ قائم تھا۔ اب اس نظام کا تسلسل اس طرح قائم ہے کہ ایک طرف ہندوؤں کے اندر بہت بڑی تعداد میں گرو اور سادھو سنت موجود ہیں جو ہر دن اپنی قوم کو امن اور پیار اور سہن شیلتا کا اپدیش دیتے رہتے ہیں۔ یہ کام بہت بڑے پیمانہ پر پورے ملک میں ہو رہا ہے۔
دوسری طرف مسلمانوں میں لاکھوں کی تعداد میں مسجد اور مدرسے اور دینی حلقے قائم ہیں۔ مسلمانوں کی بیشتر تعداد کسی نہ کسی طور پر ان اداروں اور حلقوں سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں ان کو مسلسل طور پر اخلاق اور شرافت اور انسانیت کا سبق دیا جاتا ہے۔ یہ کام ہر شہر اور گاؤں میں ہو رہا ہے، جبکہ سیاست اور حکومت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
یہ ایک غیر سیاسی نظام ہے جس کے چار بڑے بڑے شعبے ہیں ــــ تجارت، زراعت، تعلیم اور اخلاقیات۔ موجودہ حالت میں جب کہ ہمارے نااہل لیڈروں نے ملک کو سیاسی دیوالیہ پن کی حد تک پہنچادیا ہے، یہی غیر سیاسی نظام ہے جو ملک کو آخری تباہی سے بچائے ہوئے ہے۔ لارڈ ایکٹن نے کہا تھا کہ اقتدار بگاڑتا ہے (power corrupts)۔ یہ مقولہ ہمارے ملک میں اپنی بدترین صورت میں صحیح ثابت ہوا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بگاڑ کا یہ مسئلہ صرف موجودہ سیاسی لیڈروں تک نہیں رکے گا بلکہ جو شخص بھی سیاست کے میدان میں داخل ہوگا وہ اسی مقولہ کا شکار ہو تا رہے گا۔ اس لئے کم از کم موجودہ حالت میں عقلمندی یہی ہے کہ ہم سیاسی لیڈروں سے زیادہ امید رکھنا چھوڑ دیں اور مذکورہ غیر سیاسی نظام کو مزید مکمل اور مستحکم بنانے میں لگ جائیں۔
ہمارے لئے اب امید کا مقام ملک کا سیاسی ادارہ نہیں ہے بلکہ وہ غیر سیاسی ادارے ہیں جن
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues