Al-Risala · October 1999 · page 42

مستحکم سماجی نظام

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۲

کا او پر ذکر ہوا۔ جو شخص بھی ملک کی تعمیر میں اپنا کچھ حصہ ادا کرنا چاہتا ہے اس کو اسی غیر سیاسی نظام کی تعمیر و تشکیل میں مصروف ہو جانا چاہئے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم صرف غیر سیاسی شعبوں میں مشغول ہو جائیں اور سیاسی شعبے کو اس کی بگڑی ہوئی حالت پر چھوڑ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غیر سیاسی شعبے کو بہتر بنانا بالواسطہ طور پر خود سیاسی شعبے کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔

ملک کے سیاسی شعبے کے بگاڑ کو درست کرنے کی کوشش پچھلے پچاس سال سے جاری رہی ہے۔ اس میں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا اور جے پرکاش نرائن جیسے بہت سے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ مگر لمبی کوشش کے باوجود اس معاملے میں کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ ایسی حالت میں اس تجربہ کو مزید جاری رکھنا کوئی معقول بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اصلاح کی براہ راست کوشش پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اب ہمارے لئے جو صورت باقی ہے وہ یہی ہے کہ اس معاملے میں بالواسطہ اصلاح کے آزمودہ طریقہ کو اختیار کر لیا جائے۔

پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جیسے تم ہو گے ویسے ہی تمہارے حکمراں ہوں گے ( کما تكونون، كذالك يؤمر عليكم) اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاست ہمیشہ سماجی حالات کے تابع ہوتی ہے۔ اگر سیاسی شعبہ میں تبدیلی لانا ہے تو سب سے پہلے سماجی نظام میں تبدیلی لانا چاہئے۔ یہ دراصل سماج ہے جو سیاسی شعبہ کی تشکیل کرتا ہے، نہ کہ اس کے برعکس۔ خلاصہ یہ کہ موجودہ حالات میں ملک کے مستقبل کے لئے اگر کوئی امید ہے تو وہ الیکشن کی ہنگاموں اور سیاسی اکھٹا پچھاڑ میں نہیں ہے بلکہ سماجی شعبوں کی خاموش تعمیر میں ہے۔ جو لوگ بھی ملک کا سچا درد رکھتے ہیں انہیں اسی ایک کام میں مشغول ہو جانا چاہئے۔ اگر ملک میں مستحکم سماجی نظام قائم ہو جائے تو وہ غیر مستحکم سیاسی نظام کے باوجود ترقی کرتا رہے گا۔ اس کے بعد ملک کی ترقی کو کوئی روکنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page