Al-Risala · October 1999 · page 43

مستحکم سماجی نظام

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۳

سوال

آج کل ہر جگہ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ ہو رہا ہے۔ ہر جگہ مسلمان ہی نقصان میں رہتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہم کو مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ کیا یہ صحیح ہے کہ مسلمان ہونے کی بنا پر ہمارے خلاف یہ زیادتیاں کی جارہی ہیں۔ (نسیم علی خان، بمبئی) جواب قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ بات بالکل غلط ثابت ہوتی ہے۔ دورِ اول کے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا کہ : وما اصابكم من مصيبة فبما كسبت ایدیکم (الشورایٰ ۳۰) یعنی جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس آیت کے مطابق، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے کہ کوئی شخص یا گروہ جب کسی مسئلہ سے دوچار ہو تو وہ مفروضہ دشمنوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کی شکایت کرنے لگے۔ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے کہ کوئی شخص مستقل طور پر کسی کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ آدمی کی اپنی کمزوری دوسروں کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اس کو اپنی ظالمانہ کاروائیوں کا نشانہ بنائے۔ جہاں تک اہل ایمان کا تعلق ہے تو قرآن میں بار بار یہ ضمانت دی گئی ہے کہ اہل ایمان اگر صحیح معنوں میں دینی روش پر قائم ہوں تو وہ کبھی بھی اغیار کے ظلم یا سازش کا نشانہ نہیں بنیں گے۔ اس سلسلہ میں قرآن سے چند حوالے یہاں نقل کئے جاتے ہیں، مثلاً قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ : تم ہی غالب رہو گے اگر تم مؤمن ہو (آل عمران ۱۳۹) اسی طرح فرمایا: اللہ ہرگز کافروں کو مؤمنوں کے اوپر کوئی راہ نہیں دے گا (النساء ۱۴۱) مزید فرمایا کہ اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ (آل عمران ۱۲۰) قرآن کے ان ارشادات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان جب بھی اغیار کے ظلم و زیادتی کا شکار ہوں تو ہمیشہ اس کا سبب خود مسلمانوں کے اندر ہو گا نہ کہ مسلمانوں کے باہر۔ اس اصول کی عملی مثال یہ ہے کہ دور اول کے مسلمانوں کو جب احد کی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues

Printed page