مستحکم سماجی نظام
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۴
جنگ میں جان و مال کا سخت نقصان پیش آیا تو قرآن میں اس کا سبب خود مسلمانوں کے باہمی نزاع کو قرار دیا گیا (آل عمران (۱۵۲) اسی طرح حنین کی جنگ میں ابتدائی مرحلہ میں مسلمانوں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو اس کا سبب بھی قرآن میں خود مسلمانوں کے عجب کو قرار دیا گیا (التوبہ ۲۵) قرآن کے یہ ارشادات واضح طور پر بتاتے ہیں کہ ایسے معاملات میں ہمارا طرزِ عمل کیا ہونا چاہئے۔ وہ یہ ہے کہ ہم دشمنوں کی سازش کا انکشاف کرنے میں اپنا وقت ضائع نہ کریں اور نہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف منفی کارروائیوں میں لگ جائیں۔ اس کے برعکس ہمیں یہ کرنا چاہئے کہ ہم خود اپنا احتساب کریں۔ ہم اپنی داخلی کمزوریوں کو تلاش کر کے ان کی اصلاح کریں۔ یہی اس معاملہ میں قرآنی ذہن ہے اور یہی اس معاملہ کا قرآنی حل۔
سوال :
آپ نے اپنی کتاب ”اسلام دور جدید کا خالق“ اور دوسرے کئی مضامین میں یہ لکھا ہے کہ جدید دور کی ترقیوں کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آج کی دنیا میں ان ترقیوں کے لئے مسلمانوں کا نام نہیں لیا جاتا۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ کیا ایسا تعصب کی بنا پر ہے۔ (عمران احمد اصلاحی، دہلی)
جواب
یہ کوئی تعصب کا معاملہ نہیں۔ بلکہ یہ ایک سادہ فطری معاملہ ہے۔ ہر گھر میں اور ہر سماج میں آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی کو جو عزت ملتی ہے وہ اس کے آج کے کارناموں کی بنیاد پر ملتی ہے نہ کہ ماضی کے کارناموں کی بنیاد پر۔ اصل یہ ہے کہ مسلمانوں نے جدید ترقیاتی دور کا آغاز کیا۔ لیکن اگلے مرحلے میں وہ زوال کا شکار ہوگئے۔ اگلے مرحلے کے تمام کام مغربی قوموں نے انجام دئے۔ اس لئے ہر طرف انھیں کا نام لیا جانے لگا۔ مثلاً ہزاروں سال سے انسان دریاؤں کو معبود کا درجہ دے کر ان کی پرستش میں مبتلا تھا۔ مسلمانوں نے یہ کام کیا کہ دریاؤں کو معبودیت کے درجہ سے ہٹایا۔ مگر پانی کو اسٹیم پاور میں بدلنے کا کام اہل مغرب نے انجام دیا کہ مسلمانوں نے۔ اسی طرح
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues