مستحکم سماجی نظام
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۵
دنیا آفتاب پرستی میں مبتلا تھی۔ مسلمانوں نے انسان کو آفتاب پرستی کی ذلت سے نکالا۔ مگر آفتاب کو سولر انرجی میں تبدیل کرنے کا کام تمام تر اہل مغرب نے انجام دیا، وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا نام ماضی کی تاریخ میں تو ضرور لکھا ہوا ہے مگر حال کی دنیا میں ان کا کوئی چرچا نہیں۔ یہی معاملہ تمام ترقیات کا ہے۔ جن چیزوں کو تمدنی ترقی کہا جاتا ہے وہ سب فطرت کے اندر چھپی ہوئی طاقتوں کو دریافت کر کے ان کو استعمال کرنے کا نتیجہ ہے۔ قدیم زمانے کا انسان فطرت کو معبود کا درجہ دیے ہوئے تھا۔ اس بنا پر اس کے اندر فطرت کی تسخیر کا ذہن پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اہل اسلام کا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے فطرت کو معبود کے بجائے مخلوق کا درجہ عطا کیا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ تاریخ میں پہلی بار فطرت کی پرستش کے بجائے فطرت کی تسخیر کا عمل شروع ہو گیا۔ اسی کا براہ راست نتیجہ وہ تمام ترقیاں ہیں جو آج کی دنیا میں نظر آتی ہیں۔ سوال اسلام کے معاشی نظریات جو شروع کے دور میں نافذ کئے گئے تھے کیا وہ نظام آج کے دور میں کامیاب ہو سکتا ہے؟ جبکہ ساری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کا رواج ہے۔ مختصرایہ کہ آپ اسلام کے معاشی نظریات کو عصری اسلوب میں کس طرح پیش کریں گے۔ (ڈاکٹر کلیم انصاری، دھولیہ) جواب میرے نزدیک اصل مسئلہ نظام کا نہیں ہے بلکہ افراد کا ہے۔ نظام افراد کو نہیں بناتا بلکہ یہ دراصل افراد ہیں جو کسی نظام کو بناتے یا چلاتے ہیں۔ خود اسلام کے دور اول کی تاریخ بھی اسی کی تصدیق کرتی ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی جو لوگ (اسلامی نظام قائم کرو) کے نام پر نام نہاد انقلابی تحریکیں چلاتے ہیں اور مفروضہ مخالفین اسلام کو گولی مار کر یا پھانسی دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اسلامی نظام قائم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں، ان کا یہ عمل اتنا زیادہ بے معنی ہے کہ وہ یا تو ان کی عقل کو مشکوک ثابت کرتا ہے یا ان کی نیت کو۔ چونکہ عقل پر شک کرنا نہ اٹھنا ہے اس لئے میں اس معاملہ میں اسی رائے کو اختیار کرتا ہوں۔ کیوں کہ اس طرح نہ کبھی اسلامی نظام قائم ہوا ہے اور نہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues