مستحکم سماجی نظام
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۹، صفحہ ۴۶
وہ کبھی قائم ہو سکتا ہے۔ اسلامی نظام قائم کرنے کی طرف پہلا قدم انسان سازی ہے نہ کہ وہ توڑ پھوڑ یا تخریبی سیاست جو آج اسلامی نظام قائم کرنے کے نام پر مختلف مسلم ملکوں میں جاری ہے۔ جہاں تک اسلام کے معاشی نظریات کو عصری اسلوب میں بیان کرنے کا سوال ہے اس پر موجودہ زمانہ میں بہت سی قیمتی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر ایم عمر چھاپرا کی کتاب: Towards a just Monetary System اس کتاب پر سعودی عرب کی طرف سے انعام بھی دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر بہت سی کتابیں اردو، عربی اور انگریزی میں چھپ چکی ہیں۔ کتابوں کے علاوہ اس موضوع پر کثیر تعداد میں مقالات اور رپورٹس بھی شائع ہو چکی ہیں۔ مگر عملاً ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے لئے افراد کار موجود نہیں۔ مثال کے طور پر اسلام کے معاشی نظام پر لکھنے اور بولنے والے لوگ خود اپنے آپ کو غیر اسلامی معاشی نظام کا پرزہ بنانے پر راضی ہو جاتے ہیں، صرف اس لئے کہ اسلام کا معاشی نظام قائم کرنے میں انھیں فوری طور پر ذاتی فائدہ ملتا ہوا نظر نہیں آتا۔ جبکہ غیر اسلامی معاشی نظام کا پرزہ بننے میں فورا ہی ان کو بڑے بڑے مادی فائدے ملنے لگتے ہیں۔
سوال
آج کل عالم اس کو کہا جاتا ہے جس نے نام کے ساتھ قاسمی، ندوی، مظاہری وغیرہ نسبتی لفظ لگا ہوا ہو۔ کیا عالم کی یہ تعریف درست ہے (مفتی محمد ظہیر قاسمی، ناندیڑ) جواب عالم ہونے کے لئے مدرسہ سے تحصیل علم کی شرط درست ہے۔ مگر یہ شرط درست نہیں کہ نام کے ساتھ قاسمی یا ندوی جیسا کوئی لفظ لگا ہوا ہو۔ نام کے ساتھ اس قسم کا لاحقہ لگانا اکابر علماء کی روایت نہیں۔ مثال کے طور پر مولانا محمود الحسن، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا اعزاز علی، مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا شبلی نعمانی جیسے افراد جو مسلمہ طور پر عالم تھے مگر انھوں نے اپنے نام کے ساتھ ایسا کوئی لاحقہ نہیں لگایا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1999 All issues