نئی کتابیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۶
اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے یہاں ایک نمائندہ مثال درج کی جاتی ہے۔ دہلی کے سہ روزہ دعوت میں مولاناسید ابوالحسن علی ندوی کا ایک انٹرویو افادہ عام کی غرض سے "شائع کیا گیا ہے۔ اس انٹرویو کا ایک سوال اور جواب من وعن یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
سوال : ملک میں روز بروز بڑھتی ہوئی ہند وفرقہ پرستی کے تناظر میں آپ کو یہاں انسانیت کا مستقبل کیسا نظر آتا ہے خصوصاً جب کہ آنجناب ”پیام انسانیت تحریک کے داعی و علم بردار ہیں ؟
جواب : در حقیقت انسانیت کا پیغام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ ملکی سطح پر جو زبردست سیاسی، تہذیبی اور اخلاقی خلا موجود ہے، اسے صرف مسلمان ہی پر کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ وہ کتاب وسنت اور سیرت رسول ﷺ کے وارث ہیں۔ بلکہ میں تو پورے یقین و اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر مسلمان نہ ہوتے تو یہ ملک عذاب الہی کا نشانہ بن جاتا اور اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہو تا۔ (سہ روزہ ۔ دعوت دہلی، ۲۵ جنوری ۱۹۹۷ء)
جس ملک کے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کی سوچ یہ ہو کہ دوسرا اگر وہ عذاب الہی کا مستحق ہو چکا ہے اور ملک میں صرف میری موجودگی اس کو اس بھیانک انجام سے بچائے ہوئے ہے۔ وہاں نفرت اور حقارت کا ماحول تو بن سکتا ہے مگر محبت اور احترام کا ماحول ایسے لوگوں کے درمیان کبھی نہیں بنے گا۔ اور جس ملک کے دو بڑے گروہوں کے درمیان اس قسم کا منفی ماحول ہو وہاں مثبت معنوں میں لوگوں کے درمیان معتدل انسانی تعلقات کا قیام ممکن ہی نہیں۔ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد ہندوستان میں جو پہلی پارلیمنٹ بنی اس کے ایک بنگالی ممبر پروفیسر ہیرن مکر جی تھے۔ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے بعد وہ دہلی سے کلکتہ کے لئے بذریعہ ٹرین روانہ ہوئے۔ وہ فرسٹ کلاس میں سفر کر رہے تھے۔ انھوں نے جب چلتی ہوئی ٹرین کے باہر نظر ڈالی تو سٹرک کے دونوں طرف جھگی جھونپڑی کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ گندگی اور
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues