Al-Risala · November 1999 · page 7

نئی کتابیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۷

تاریکی کے غیر صحت مند ماحول میں عورت، مرد اور بچے اس طرح رینگ رہے تھے جیسے کہ وہ انسان نہ ہوں بلکہ جانور ہوں۔

پروفیسر ہیرن مکرجی اس منظر کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔ واپس پہنچ کر کلکتہ سے انھوں نے اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک خط روانہ کیا۔ اس خط میں انھوں نے لکھا کہ ٹرین کے فرسٹ کلاس میں بیٹھا ہوا جب میں جھگی جھونپڑی کی ان گندی بستیوں سے گذرا تو میں نے سوچا کہ اگر یہ لوگ مجھ سے پوچھیں کہ انڈیا کی آزادی سے ہم کو کیا ملا، تو میں ان کو کیا جواب دوں گا۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اسکے جواب میں پروفیسر ہیرن مکرجی کو جو خط روانہ کیا اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ...... تم اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہو: You are paying the price of being sensitive. یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتا ہے کہ آزادی کے ابتدائی زمانہ ہی میں درد مند لوگوں نے ہمارے لیڈروں کے ضمیر کو کھٹکھٹایا۔ مگر وہ جاگنے کے بجائے خواب آور گولیاں کھا کر گہری نیند سو گئے۔ انھوں نے یاد دلانے والوں کو یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ یہ تمہاری حساسیت کا مسئلہ ہے نہ کہ کوئی حقیقی مسئلہ۔

ہمارے لیڈروں نے ایسا جواب کیوں دیا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ایک بار حکومت کا تجربہ کرنے کے بعد ان کی ساری دلچسپی اس سے ہو گئی کہ وہ اپنے اقتدار کو آخر وقت تک باقی رکھ سکیں۔ اب ان کی تو جہات کا مرکز صرف یہ تھا کہ وہ کس طرح اگلے الکشن میں اپنے آپ کو شکست سے بچائیں اور الکشن جیت کر دوبارہ سیاسی اقتدار کی گدی پر بیٹھ جائیں۔ اس خود غرضانہ طرز فکر نے ہندوستانی سیاست کو پہلے کرپٹ پالینکس بنایا، اور اس کے بعد اس کو وہ بدترین صورت دے دی جسے ممبئی کے مسٹر مدھو مہتا (وفات 1995) کریمنلائزیشن آف پالکس کہا کرتے تھے۔ شیخ سعدی شیرازی کا ایک شعر ہے کہ کسی چشمہ کا منبع ابتدا میں ایک تیلی سے بند کیا جا سکتا

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page