نئی کتابیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۸
ہے، مگر جب وہ بھر جائے تو اس کو ہاتھی کے ذریعہ بھی بند کرنا ممکن نہیں: سرچشمہ شاید گرفتن بہ میل چو پر شد نشاید گذشتن بہ پل آزادی کے بعد ابتدائی دور میں اگر ہمارے لیڈر صرف اتنا کرتے کہ وہ جیت کے ساتھ ہار کو قبول کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتے تو ملک میں اتنا بگاڑ کبھی نہیں آسکتا تھا۔ ڈیموکریسی کی بنیاد الیکشن پر ہے اور الیکشن اگر صحیح طور پر کرائے جائیں تو کبھی ایک گروہ جیتے گا اور کبھی دوسرا گروہ۔ اس لئے ڈیموکریسی کا نظام درست طور پر صرف اس وقت چل سکتا ہے جب کہ پارٹیاں ہارنے کو بھی اسی طرح قبول کریں جس طرح وہ جیتنے کو قبول کرتی ہیں۔ اگر یہ مزاج نہ ہو تو برسر اقتدار پارٹی اپنے اقتدار کو مسلسل باقی رکھنے کے لئے ایسی بد عنوانیاں کرے گی جس کے نتیجہ میں پورا ملک تباہ ہو کر رہ جائے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں یہی کچھ پیش آیا ہے۔ 1947ء سے پہلے جو لوگ آل انڈیا کانگریس میں جڑے وہ طرح طرح کی سوچ کے لوگ تھے ۔ ان کو جس چیز نے کانگریسی اتحاد میں اکٹھا کیا وہ صرف انگریز مخالف سیاست تھی۔ یہ لوگ پروائڈیا جذبہ سے زیادہ اینٹی برٹش جذبہ کے تحت کانگریس کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوئے تھے۔ آزادی کے بعد جب پنڈت جواہر لال نہرو کو ملک کا وزیر اعظم بنایا گیا تو کسی نے ان سے کہا کہ کانگریس میں تو طرح طرح کے لوگ اکٹھا ہیں۔ اس قسم کے مختلف لوگوں کو لے کر آپ کس طرح حکومت کا کاروبار چلائیں گے۔ پنڈت نہرو نے جواب دیا: ہر ایک کی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت میں اس کو ادا کر سکتا ہوں۔
پنڈت نہرو کا یہ فارمولا ایک مفاد پرست حکومت کو چلانے کے لئے کافی ہو سکتا تھا۔ مگر وہ ایک با اصول اور با کردار حکومت کو چلانے کے لئے قطعی طور پر ناکافی تھا۔ چنانچہ آزادی کے بعد ملک میں جو سیاسی ڈھانچہ بنا وہ یہ تھا کہ یہاں کوئی با اصول سیاسی نظام قائم نہ ہو سکا۔ اس کے بر عکس جو کچھ پیش آیا وہ یہ تھا کہ ہر ایک اپنی ” قیمت “ وصول کرنے لگا۔ مزید یہ کہ اس کی یہ قیمت
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues