نئی کتابیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۹
بھی خود اس کے اپنے خود ساختہ اندازوں کی بنیاد پر تھی نہ کہ حقیقت واقعہ کی بنیاد پر۔ چنانچہ قیمت وصول کرنے کا یہ سلسلہ کہیں نہیں رکا۔ پہلے یہ قیمت ہزاروں میں وصول کی جاتی تھی۔ اس کے بعد لاکھوں میں قیمت لی جانے لگی۔ پھر کروڑوں میں اور مزید بڑھ کر اربوں کی مقدار میں لوگ اپنی قیمت وصول کرنے لگے۔ یہ معاملہ اتنا بڑھا کہ ہندوستانی روپیہ کی شکل میں اپنی قیمت لینا لو گوں کو کم دکھائی دینے لگا۔ اب لوگ ڈالر اور پونڈ کی صورت میں اپنی قیمت وصول کرنے لگے۔ ملک کی دولت ہندوستان سے نکل کر بیرونی ملکوں کے بینکوں میں جمع ہو گئی۔ یہاں تک کہ قیمت وصول کرنے کا یہ معاملہ ایک مستقل فن بن گیا۔ اب سیاسی اور حکومتی شخصیتوں نے یہ کیا کہ وہ ملکی اور سماجی ترقی کے نام پر بڑے بڑے منصوبے بنائے، صرف اس لئے کہ اس کے بہانے سے اپنے گھروں کو نوٹ سے بھرے ہوئے بوروں کا گودام بنا سکیں۔ ملک بدستور بے ترقی کی حالت میں رہا مگر ملکی ترقی کے نام پر حکومتی شخصیتوں اور بڑے بڑے افسروں کا یہ حال ہوا کہ ان کے گھروں میں دولت کے انبار لگ گئے۔ ملک کی سڑکیں بدستور ٹوٹی پھوٹی حالت میں پڑی رہیں مگر انھیں سڑکوں کے نام پر لوگوں کے شاندار ذاتی محل تعمیر ہو گئے۔ یہ معاملہ یہاں بھی نہیں رہا۔ حکومتی شخصیتوں نے دیکھا کہ ملکی ترقی کے نام پر وہ صرف ہندوستانی روپیہ لوٹ سکتے ہیں۔ اب انھوں نے جنگ کا ہوّا کھڑا کیا۔ سرحدی خطرات کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ صرف اس لئے تا کہ مغربی ملکوں کی اسلحہ فیکٹریوں سے نہایت مہنگی قیمت پر ہتھیاروں کی خریداری کا معاملہ کریں اور اس بہانے کروڑوں اور اربوں ڈالر باہر کی کمپنیوں سے بطور کمیشن وصول کر کے سویزر لینڈ کے بنکوں میں خفیہ کھاتے کے طور پر جمع کر سکیں۔ پنڈت جواہر لال نہرو کا سوشلسٹ فارمولا ابتدائی طور پر ایک سادہ فار مولا دکھائی دیتا تھا۔ مگر اپنی انتہا کو پہنچ کر ان کا سوشلسٹ فارمولا ایک ایسالوٹ فار مولا بن گیا جس کی کوئی مثال ہندوستان کی ہزاروں سال کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
آزادی کے بعد ہندوستان میں لا قانونیت کی جو صورت پیش آئی وہ کوئی اتفاقی بات نہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues