نئی کتابیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۰
تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کا بیج ۱۹۷۴ سے پہلے آزادی کی تحریک کے دوران ہی ڈال دیا گیا تھا۔ آزادی کے بعد جو لا قانونیت کا مزاج ملک میں پایا جاتا ہے وہ آزادی سے پہلے کے حالات ہی کا ایک براہ راست نتیجہ ہے۔
سبھاش چندر بوس نے کہا تھا کہ تم مجھ کو خون دو میں تم کو آزادی دوں گا۔ اس کے مقابلہ میں مہاتما گاندھی نے کہا کہ تم انگریزی قانون کو توڑو اور پھر تم کو آزادی مل جائے گی۔ سبھاش چندر بوس کے انقلاب میں اگر انسان قتل ہوتے تھے تو گاندھی کے انقلاب میں روایات قتل ہو گئیں۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ قتل انسان کے مقابلہ میں قتل روایات کا طریقہ زیادہ سخت ہے۔ مہاتما گاندھی کی پوری تحریک گویا پر امن قانون شکنی تھی ۔ ۔۔ حکومت کو ماننے کے بجائے حکومت کو نہ ماننا، اسکولوں اور کالجوں سے لوگوں کو نکالنا، اس قسم کی بہت سی خلاف روایت چیزیں تھیں جن کو مہاتما گاندھی نے ملک میں رواج دیا۔ ان کی اس تدبیر کا ایک جزو تھا جس کو سول نافرمانی (civil disobedience) کہا جاتا ہے۔
مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ قانون شکنی کی اس تحریک کے ذریعہ وہ برٹش اقتدار کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ ہمارا سماج صدیوں سے کچھ اخلاقی روایات پر قائم تھا۔ ید ھشٹر کا قصہ ان اخلاقی روایات کی ایک علامتی مثال ہے۔ کہانی بتاتی ہے کہ ید ھشٹر ایک سچے انسان تھے۔ اس بنا پر ان کار تھ زمین کے اوپر اوپر چلتا تھا۔ مگر ایک جنگ کے موقع پر انھوں نے بظاہر ایک جھوٹ بات کہہ دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کار تھ زمین پر آ گیا اس کے بعد پھر وہ کبھی زمین سے اوپر اٹھ کر نہیں چلا۔
قدیم ہندوستانی سماج اس قسم کی بہت سی اخلاقی روایات کے اوپر قائم تھا۔ اس وقت کے سماج میں اس اخلاقی روایات کے ڈھانچہ کو توڑنا بہت زیادہ برا سمجھا جاتا تھا۔ ان روایات کا غلبہ ذہنوں پر اتنا زیادہ تھا کہ کوئی بھی شخص ان کو توڑنے کی ہمت نہیں کرتا تھا مہاتما گاندھی کی عوامی تحریک نے پہلی بار اس کا خاتمہ کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues