نئی کتابیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۱
روایت شکنی اور قانون کی پامالی کے اس طریقہ کار نشانہ نے 1947 سے پہلے برٹش اقتدار تھا، 1947 کے بعد اس کا نشانہ خود ہندوستانی سماج بن گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستانی سماج ایک ایسا سماج بن گیا جس میں قانون اور اقتدار کا احترام ختم ہو گیا تھا۔ جہاں لوگوں کے لئے قانون اور اخلاقی روایات کے خلاف عمل کرنا کوئی سنگین بات نہ تھی۔ آج ہندوستانی سماج میں لوٹ اور انار کی کی جو کیفیت پائی جاتی ہے اس کا کم از کم ایک بڑا سبب یہی ہے۔
دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس تعداد کا تقریباً تہائی حصہ صرف بر صغیر ہند میں آباد ہے۔ اسی طرح انڈیا میں ہندو ستر کروڑ سے زیادہ ہیں۔ کوئی ایک کمیونٹی اتنی بڑی تعداد میں کسی ایک ملک میں نہیں پائی جاتی۔ اس طرح ہندو اور مسلمان دونوں اس خطہ ارضی میں غیر معمولی امکانات کے حامل ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ پچھلے سو سال کی ہنگامہ خیز سرگرمیوں کے باوجود دونوں میں سے کوئی بھی کمیونٹی کوئی قابلِ لحاظ کارنامہ انجام نہ دے سکیں۔
اس المیہ کا سبب کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کا واحد سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اس پوری مدت میں کوئی دانش مند قیادت بر صغیر ہند میں ابھر نہ سکی۔ اس مدت میں کچھ ایسے لیڈر ضرور دکھائی دیتے ہیں جن کو قوم کے حق میں مخلص کہا جا سکتا ہے۔ مگر دور اندیشی اور گہرے تدبر سے تقریباً ہر ایک خطر ناک حد تک خالی تھا۔ اس لئے ان میں سے کوئی بھی پورے معنوں میں نتیجہ خیز تحریک وجود میں نہ لا سکا۔
قائد کی مثال باغبان جیسی ہے۔ باغ کے درخت آج لگائے جاتے ہیں مگر ان کا پھل بہت سال بعد مستقبل میں حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے قائد کی صحیح پہچان یہ ہے کہ وہ ایسی تحریک اٹھاسکے جو مستقبل کے اعتبار سے نتیجہ خیز ثابت ہو۔ مگر بد قسمتی سے ایسا کوئی لیڈر نہ ہندوؤں میں پیدا ہو اور نہ مسلمانوں میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues