Al-Risala · November 1999 · page 12

نئی کتابیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۲

امریکہ کے ابتدائی لیڈروں نے امریکہ کو سائنسی تعلیم کے میدان میں ڈالا تھا۔ یہی کام بعد کو جاپان نے کیا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد ہندوستان کے لیڈر اپنی سیاسی تحریک کو تیز کرنے کے لئے ہندوستانی نوجوانوں کو اسکولوں اور کالجوں سے باہر لار ہے تھے ، اسی زمانہ میں جاپانی لیڈر اپنے نوجوانوں کو اسکول اور کالج میں داخل کر کے انھیں بہترین تعلیم دلوارہے تھے۔ یہ عمل لمبی مدت تک امریکہ اور جاپان میں جاری رہا۔ ان کی اگلی نسلوں کو اس نشانہ میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس روس میں ۷۵ سال تک اسٹیٹ اکانمی کا غلبہ رہا۔ اس کے بعد اس کو ترک کر کے لبرل اکانومی کے اصول پر قوم کو چلایا جانے لگا۔ یہی معاملہ چھوٹے پیمانے پر ہندوستان میں پیش آیا۔

یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہیں اور روس اور ہندوستان دونوں غیر ترقی یافتہ ملک۔ ترقی مسلسل طور پر جاری رہنے والا عمل ہے۔ اس لئے ترقی کے لئے وہی اسکیم کار آمد ہے جو قابل بقا (sustainable) ہو۔ جو اسکیم قابل بقانہ ہو وہ ترقی کا ذریعہ بھی نہیں بن سکتی۔

اس معیار کی روشنی میں دیکھیے تو ہندوؤں اور مسلمانوں کے تمام بڑے بڑے لیڈر اس پر پورے اترتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ مثال کے طور پر مہاتما گاندھی نے چر خاپر مبنی اکانمی کا نظریہ پیش کیا مگر وہ کچھ انفرادی لوگوں میں وقتی طور پر رہا اور اس کے بعد اس کا خاتمہ ہو گیا۔ اسی طرح پنڈت نہرو نے سرکاری اکانومی کو رائج کیا مگر چالیس سال بعد اس کو پیٹ کر رکھ دینا پڑا۔ مولانا محمد علی جو ہر نے خلافت تحریک کے نام پر تھوڑے دنوں کے لئے پورے بر صغیر کو ہلا دیا مگر ۱۹۲۴ء میں ان کی زندگی ہی میں اس طوفانی تحریک کا اس طرح خاتمہ ہو گیا جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ اسی طرح مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے طاغوتی نظام کا نظریہ پیش کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ مسلمان انسانی ساخت کے تمام نظاموں سے قطع تعلق کریں اور ان سے لڑ کر دنیا

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page