نئی کتابیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۳
بھر میں ان کا خاتمہ کر دیں۔ ورنہ اس دنیا میں ان کی زندگی ہی جائز زندگی نہ ہوگی۔ اس بے بنیاد نظریہ نے بھی ایک محدود عرصہ کے لئے وقتی جوش و خروش دکھایا اس کے بعد وہ کتابوں کے صفحات میں دفن ہو کر رہ گیا۔ اس کی وجہ بھی دوبارہ یہی تھی کہ اس عالم اسباب میں اس قسم کا انتہا پسندانہ تصور قابل بقا ہی نہ تھا۔
۱۹۳۸ میں عربی تعلیم کے لئے میں نے مدرسہ الاصلاح (اعظم گڑھ) میں داخلہ لیا اس مدرسہ میں اس وقت ہندوستان کی دو شخصیتوں کا زیادہ چرچا تھا۔ اردو میں مولانا ابوالکلام آزاد (وفات ۱۹۵۸) اور عربی میں مولانا حمید الدین فراہی (وفات ۱۹۳۰) اس زمانہ میں یہاں کے کتب خانہ (دار المعلومات) میں مولانا آزاد کے الہلال کے پرچے مجلد صورت میں نہایت اہتمام کے ساتھ رکھے گئے تھے۔ عام کتابوں کی طرح یہ جلد میں ایشو نہیں کی جاتی تھیں۔ ان کو صرف کتب خانہ میں ہی بیٹھ کر پڑھا جا سکتا تھا۔
الہلال کو پڑھ کر جو ذہن بنتا تھا وہ صرف استعمار سے نفرت کا ذھن تھا۔ اس کا ہر شمارہ گویا انگریزوں کے خلاف ایک بغاوت نمبر ہوتا تھا۔ اس کو پڑھ کر آدمی کے اندر صرف یہ ذہن پیدا ہوتا تھا کہ انگریز ایک قابل نفرت قوم ہے۔ ان کا مقصد حیات یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو وہ نقصان پہنچائیں اور اگر ممکن ہو تو ان کو دنیا سے مٹا دیں۔
مولانا حمید الدین فراہی کوئی سیاسی آدمی نہ تھے۔ ان کا موضوع اصلا تفسیر قرآن تھا۔ لیکن انگریزوں کے معاملے میں ان کے خیالات وہی تھے جو اس زمانے کے دوسرے علماء کے یہاں پائے جاتے تھے۔ اس زمانہ کے علماء عام طور پر انگریزوں سے سخت بیزار تھے۔ وہ انگریزوں کو اسلام کا دشمن نمبر ایک سمجھتے تھے۔ چنانچہ اس زمانہ کے علماء کے حالات میں عام طور یہ لکھا ہو املے گا کہ ”حضرت کو انگریزوں سے بہت نفرت تھی“ یہی حال خود مولانا حمید الدین فراہی کا بھی تھا۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی قرآن کے مطالعہ میں گزاری۔ مگر قرآن سے انھیں آیتوں اور
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues