نئی کتابیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۴
سورتوں میں نظم کا مسئلہ تو ملا مگر انسان سے محبت کا مسئلہ انھیں شاید اس میں نہیں۔ انگریز پروفیسر آرنلڈ (T.W. Arnold) کتاب دعوتِ اسلام (The Preaching of Islam) پہلی بار ۱۸۹۶ میں چھپی۔ اس وقت مولانا حمید الدین فراہی علی گڑھ میں تھے۔ خود کتاب کے انگریز مصنف بھی اس وقت استاذ کی حیثیت سے علی گڑھ میں موجود تھے۔ پروفیسر آرنلڈ (وفات ۱۹۳۱) نے ۵۰۰ صفحہ کی اس کتاب میں کامیابی کے ساتھ یہ دیکھایا ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعہ نہیں پھیلا بلکہ دعوت و تبلیغ کے ذریعہ پھیلا۔
یہ کتاب لندن سے چھپ کر جب علی گڑھ آئی تو مولانا حمید الدین فراہی نے اس کو پسند نہیں کیا۔ ان کے نزدیک یہ کتاب انگریزوں کی سازش کا ایک حصہ تھی۔ انگریز اپنے استعماری مفاد کے تحت مسلمانوں سے جہاد کا جذبہ ختم کرنا چاہتے ہیں، اس لئے انھوں نے پروفیسر آرنلڈ سے اس قسم کی کتاب لکھوائی ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی کا یہ احساس اتنا زیادہ بڑھا ہوا تھا کہ ایک انگریز ان کو اپنے عربی ترجمان کی حیثیت سے عرب لے جانا چاہتا تھا۔ انھوں نے اس کو دشمن اسلام کے ساتھ تعاون سمجھ کر اس سے انکار کر دیا۔ بعد کو اپنے استاذ مولانا شبلی نعمانی (وفات ۱۹۱۴) کے کہنے پر بادل نخواستہ وہ مذکورہ انگریز کے ساتھ جانے پر راضی ہوئے۔ اس طرح مدرسہ میں مجھ کو جو ذہن ملا وہ نفرت انگریز (یا نفرت انسان) کا ذہن تھا۔ اسلام کا مطلوب ذہن محبت انسان کا ذہن ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ پچھلے سو سال کے درمیان ہمارے رہنماؤں نے مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنایا وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر نفرت انسان کا ذہن تھا۔ نہ کہ محبت انسان کا ذہن۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت کے مشہور مسلم شاعر انور صابری ہمارے مدرسہ میں آئے انھوں نے وہاں اپنی کچھ نظمیں سنائیں ان کا ایک شعر بہت مقبول ہوا جواب تک مجھے یاد ہے:
تمنا ہے کہ دنیائے غلامی کو بدل ڈالوں شہنشاہوں کا سر پائے بغاوت سے کچل ڈالوں مدرسۃ الاصلاح میں میرے استاذ مولانا امین احسن اصلاحی (وفات ۱۹۹۸) سیاسی اعتبار
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues