Al-Risala · November 1999 · page 15

نئی کتابیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۵

سے کانگریسی تھے تاہم تقسیم (۱۹۴۷) کے بعد وہ پاکستان چلے گئے۔ وہاں وہ لاہور میں مقیم رہے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ غالباً ۱۹۵۰ء میں وہ کچھ دنوں کے لئے ہندوستان آئے تھے اور اپنے وطن بمہور (اعظم گڑھ) میں قیام کیا تھا۔ میں بھی چند دوسرے نوجوانوں کے ساتھ بمہور گیا۔ مولانا جب یہاں آئے تو ان کو حسب قاعدہ پولیس اسٹیشن جا کر اپنی آمد کا اندراج کرانا پڑا۔ اس قسم کی چیز ان کے مزاج کے خلاف تھی۔ چنانچہ ہم لوگوں سے گفتگو کے دوران انھوں نے کہا: پاکستان میں میں وزیر اعظم کو ڈانٹ سکتا ہوں، مگر انڈیا میں میں نمبر ۱۰ کا مجرم ہوں۔ استاذ کی زبان سے یہ جملہ سن کر اس وقت میرے اندر یہ تاثر پیدا ہوا کہ انڈیا بہت خراب ملک ہے اور پاکستان اس کے مقابلے میں بہت اچھا ملک ہے۔ اس کے ایک عرصہ بعد اے ۱۹ میں خود پاکستان گیا اور وہاں لاہور میں چند دن قیام کیا۔ اس سفر میں میرے ساتھ ٹھیک وہی واقعہ پاکستان میں پیش آیا جو مولانا امین احسن اصلاحی کے ساتھ انڈیا میں پیش آیا تھا۔ مجھ کو بھی وہاں پہنچ کر پہلے ہی دن پولیس اسٹیشن جانا پڑا اور وہاں اپنی آمد کی تفصیل پولیس کے رجسٹر میں درج کرانی پڑی۔ ان چند متفرق واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلے سو سال کے اندر کس قسم کے خیالات چھائے رہے ہیں اور ہمارے اداروں اور ہماری شخصیتوں کے ذریعہ لوگوں کو کس قسم کا ذہن ملتا رہا ہے۔ مثلاً اس پورے دور میں ہم نے انگریز کے مسئلہ کو ’’غلامی‘‘ کا مسئلہ سمجھا حالانکہ زیادہ صحیح لفظوں میں وہ نو آبادیات (Colonialism) کا مسئلہ تھا۔ غلامی کا لفظ صرف نفرت اور حقارت پیدا کرتا ہے۔ وہ انگریزوں کا تعارف صرف ایک ظالم کے روپ میں کرتا ہے۔ اس کے برعکس نو آبادیات کا لفظ یہ بتاتا ہے کہ انگریزوں نے علم اور صنعت کے میدان میں ترقی کر کے ہمارے اوپر برتری حاصل کرلی۔ اسی برتری کے بنا پر وہ اس قابل ہو گئے کہ سات سمندر پار کر کے وہ ہمارے ملک میں آئیں اور یہاں حکومت کریں۔

اس طرح نو آبادیات کا لفظ نئی سوچ پیدا کرتا ہے۔ وہ ترغیب دیتا ہے کہ ہم بھی علم اور صنعت کے میدان میں ترقی کریں اور صحت مند مقابلہ کر کے ان سے آگے بڑھ جائیں۔ جب کہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page