نئی کتابیں
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۶
غلامی کے لفظ سے اس قسم کا کوئی مثبت ذہن نہیں بنتا۔
اسی طرح لوگوں کے اندر ایک عام کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے قریبی حالات کے زیر اثر رائے قائم کرتے ہیں اس بنا پر ان کی رائے اکثر غلط ہو جاتی ہے۔ ایک پاکستانی مسلمان کو انڈیا میں پولیس کے دفتر میں حاضری دینی پڑے تو انڈیا کے بارے میں اس کی رائے خراب ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس نے معاملہ کو صرف اپنے محدود تجربہ کے دائرے میں دیکھا۔ اگر وہ اس کے اس حقیقت کو سامنے رکھے کہ انڈیا کا ایک مسلمان جب پاکستان جاتا ہے تو وہاں بھی اس کو پولیس اسٹیشن میں اسی طرح حاضری دینی پڑتی ہے۔ اگر وہ دونوں قسم کے واقعات کو ملا کر سوچے تو اس کی رائے میں توازن پیدا ہو جائے گا۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ سوچا جائے کہ یورپ میں لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک میں ویزا کے بغیر آسانی کے ساتھ آتے جاتے رہتے ہیں۔ پھر انڈیا میں اس کے خلاف صورت حال کیوں۔ اس پر غور کرنے کے بعد معلوم ہو گا کہ اس کا سبب ہمارے لیڈروں کی غلط سیاست ہے۔ یورپ میں ایک ملک اور دوسرے ملک کے درمیان نفرت کی سیاست نہیں چلائی گئی۔ اس لئے وہاں مختلف ملکوں کے درمیان معتدل حالات موجود ہیں۔ انڈیا اور پاکستان میں اس کے برعکس نفرت اور کشاکش کی سیاست چلائی گئی۔ دراصل یہی منفی سیاست ہے جس کا انجام آج بر صغیر ہند کے لوگ بھگت رہے ہیں۔
۱۹۶۶ میں لکھنؤ مسلم سیاست کا مرکز بنا ہوا تھا۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا محمد منظور نعمانی، ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی وغیرہ، نہایت جوش و خروش کے ساتھ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی ”نان کانگریس ازم‘‘ کی مہم میں شریک تھے۔ اس زمانے میں ایسی تقریریں کی جا رہی تھیں جیسے کہ کانگریس کو ہرانا مسلمانوں کا مستقبل بنانے کے ہم معنی ہے۔
میں اس سیاست کو سراسر ایک بے فائدہ سیاست سمجھتا تھا۔ میں نے اس تحریک کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues