Al-Risala · November 1999 · page 17

نئی کتابیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۷

اکثر رہنماؤں سے تبادلہ خیال کرنے کی کوشش کی۔ مگر اس وقت وہ اتنے جوش میں تھے کہ کوئی بھی شخص کچھ سننے کے لئے تیار نہ ہوا۔ آخر کار میں ۱۶ / اپریل ۱۹۷۲ کو ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی سے ملا۔ یہ گفتگو لکھنؤ میں (فریدی بلڈنگ، حضرت گنج) میں ہوئی۔ پون گھنٹہ تک گفتگو جاری رہی۔ میں نے ان کے تمام دلائل کو رد کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ کسی پولیٹیکل پارٹی کو ہرانا مسلمانوں کے لئے کسی مثبت نتیجہ کو پیدا کرنے والا نہیں بن سکتا۔ جب ڈاکٹر فریدی کے پاس میری دلیلوں کا کوئی جواب نہ رہا تو آخر میں انھوں نے کہا: اسٹیٹس کو میں چینج تو ہوگا (یعنی موجودہ سیاسی صورتحال میں تبدیلی تو ہوگی) اس کے بعد گفتگو ختم ہو گئی۔

ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی (وفات ۱۹۷۲) کا یہ جواب علامتی طور پر موجودہ زمانہ کی پوری مسلم قیادت پر صادق آتا ہے۔ اس زمانہ میں تقریباً ہر مسلم قائد (نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری دنیا میں) بس پولیٹیکل اسٹیٹس کو میں چینج لانے کی سیاست چلتا رہا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ کسی نے شعوری طور پر ایسا کیا اور کسی نے غیر شعوری طور پر۔

موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کی ہنگامہ خیز کوششیں کوئی مثبت نتیجہ پیدا کئے بغیر ختم ہو گئیں۔ اس کی واحد مشترک وجہ یہ تھی کہ انھوں نے سیاسی اسٹیٹس کو میں چینج کو کام سمجھ لیا۔ وہ بار بار اس اسٹیٹس کو میں تبدیلی لانے کے لئے دھواں دار تحریکیں چلاتے رہے، صرف اس لئے کہ جو کچھ پہلے حاصل تھا وہ بھی ان سے چھن جائے۔

اصل یہ ہے کہ اسٹیٹس کو میں چینج لانے کے لئے تحریک چلانا کوئی تحریک ہی نہیں۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ جو اسٹیٹس کو بن گیا ہے اس کو وقتی طور پر تسلیم کرتے ہوئے حاصل شدہ مواقع کار کو مثبت تعمیر کے لئے استعمال کیا جائے جو سیاسی اسٹیٹس کو آپ کو یہ موقع دیتا ہے کہ آپ اس کے خلاف تحریک چلائیں وہ مزید اضافہ کے ساتھ آپ کو یہ موقع دے گا اس کو چھیڑے بغیر غیر نزاعی دائرے میں خاموش تعمیر کی کامیاب جدوجہد کریں۔ اسٹیٹس کو میں چینج ایک سلبی عمل ہے اور اسٹیٹس کو سے ٹکرائے بغیر غیر سیاسی میدان

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page