Al-Risala · November 1999 · page 18

نئی کتابیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۸

میں کوشش کرنا ایک ایجابی عمل۔

اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مختلف اسباب سے ایک فریق اور دوسرے فریق کے درمیان ایک اسٹیٹس کو قائم ہو جاتا ہے۔ اگر کام کا آغاز اس اسٹیٹس کو بدلنے سے کیا جائے تو پہلے ہی مرحلے میں فریق ثانی سے ٹکراؤ پیش آجائے گا۔ مزید یہ سراسر غیر یقینی ہوتا ہے کہ اگر اسٹیٹس کو بدل بھی جائے تو اس کے بعد جو صورت حال پیدا ہوگی وہ کس کے حق میں ہوگی۔ مثال کے طور مصر کے اسلام پسندوں نے شاہ فاروق کے زمانے میں پولیٹیکل اسٹیٹس کو بدلنے کی کوشش کی مگر جب وہ بدلا تو وہ اسلام پسندوں کے بجائے فوجی افسروں کے حق میں چلا گیا۔ پاکستان کے اسلام پسندوں نے صدر ایوب خاں کے زمانہ میں پولیٹیکل اسٹیٹس کو میں تبدیلی کی کوشش کی ۔ مگر جب وہ بدلا تو وہ اسلام پسندوں کے بجائے سیکولر لیڈروں کے حق میں چلا گیا۔ اسی طرح ہندوستان میں انگریزوں کے زمانے میں جو پولیٹیکل اسٹیٹس کو تھا اس کو نیشنلٹ مسلمانوں نے بدلنے کی کوشش کی مگر جب وہ بدلا تو نیشنلٹ مسلمانوں کے بجائے دوسری پارٹیوں کے حق میں چلا گیا۔ وغیرہ۔ اس لئے صحیح اور مفید طریقہ کار یہ ہے کہ اسٹیٹس کو کو عملاً قبول کرتے ہوئے بقیہ دائروں میں اپنے تعمیر واستحکام کی جد و جہد جاری کی جائے۔ بالفاظ دیگر مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کیا جائے۔ یہی طریقہ درست ہے اور یہی طریقہ نتیجہ خیز بھی۔ بی بی سی لندن سے ۳۱ مئی ۱۹۹۸ کو ایک ادبی پروگرام نشر ہوا۔ یہ سعادت حسن منٹو کے بارے میں تھا۔ وہ اردو کے مشہور افسانہ نگار تھے۔ ان کی پیدائش انڈیا میں ہوئی۔ تقسیم (۱۹۴۷) کے وقت وہ بمبئی میں تھے۔ اس کے بعد وہ پاکستان چلے گئے۔ ۱۹۵۵ میں لاہور میں ان کا انتقال ہوگیا۔ انھوں نے کیوں ایسا کیا کہ وہ انڈیا کو چھوڑ کر پاکستان چلے گئے۔ نشر یہ میں بتایا گیا تھا کہ اس سوال کا جواب سعادت حسن منٹو نے عصمت چغتائی کو ان الفاظ میں دیا تھا: پاکستان میں مسلمانوں کا مستقبل روشن ہے وہاں ہر طرف ہم ہی ہم ہوں گے۔ خوب ترقی کریں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page