Al-Risala · November 1999 · page 19

نئی کتابیں

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۱۹

یہی ذہن ان لوگوں کا تھا جو پاکستان کے حامی تھے۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ پچاس سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان کا مسلمان مطلوب ترقی حاصل نہ کر سکا۔ حتی کہ خود پاکستان کے لوگ اپنے ملک کے حالات سے اتنا زیادہ غیر مطمئن ہوئے کہ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد باہر کے ملکوں میں چلی گئی۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ بذات خود غلط تھا کہ جس ملک میں صرف ایک قوم کے لوگ بستے ہوں وہاں خوب ترقی ہوگی۔ بلکہ اصل معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ترقی کے لئے فطرت کا ایک اٹل قانون ہے اور جب بھی کوئی قوم ترقی کرتی ہے تو وہ اسی قانون کے مطابق کرتی ہے۔ کوئی خود ساختہ نظریہ کبھی کسی قوم کو ترقی کی طرف نہیں لے جاتا۔ فطرت کے قانون کے مطابق، ترقی کا تعلق چیلنج اور مسابقت پر ہے نہ کہ یکسانیت پر۔ کوئی قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جب کہ وہ مسابقت کے ماحول میں ہو، جب کہ اسے دوسرے دل کی طرف سے چیلنج پیش آرہا ہو۔ جہاں چیلنج نہ ہو وہاں یقینی طور پر ترقی بھی نہ ہوگی۔ مسلمانوں کی ترقی کا راز یہ تھا کہ وہ غیر منقسم ہندوستان میں ہندوؤں کے درمیان مثبت ذہن کے ساتھ رہتے۔ اس طرح دونوں کے درمیان صحت مند مقابلہ (Healthy competition) جاری ہوتا۔ یہ مقابلہ دونوں کے لئے ترقی کا ضامن بن جاتا۔

جب بھی مختلف گروہ ملکر ساتھ رہیں تو ان کے درمیان مختلف قسم کے ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں جو ایک دوسرے کے لئے شکایت کا باعث بنتے ہیں۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ایسا ہی معاملہ غیر منقسم ہندوستان میں پیش آیا۔ یہاں ہندو اور مسلم دونوں طرف کے قائدین صحیح رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ ہندی اخبارات مسلمانوں کی باتوں کو زیادتی کا روپ دے کر پیش کرتے رہے۔ دوسری طرف اردو اخبارات مزید اضافہ کے ساتھ ہندوؤں کے واقعات کو تعصب اور ظلم کی شکل میں چھاپتے رہے۔ حالانکہ دونوں طرف کے لکھنے اور بولنے والوں کو یہ کرنا چاہئے تھا کہ وہ اپنی اپنی قوم کو بتائیں کہ اس طرح کی ناخوشگوار باتیں ہر سماج میں پیش آتی ہیں۔ حتی کہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page