خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیو تا ہے
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۰
ایسے ماحول میں بھی جہاں تمام لوگ ایک ہی مذہب اور ایک ہی کلچر کے ماننے والے ہوں۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ لوگوں کے اندر یہ ذہن بنائیں کہ وہ اس طرح کے واقعات کو چیلنج کے روپ میں لیں نہ کہ زیادتی کے روپ میں۔
اگر بروقت لوگوں کو یہ رہنمائی دی جاتی تو وہ جانتے کہ غیر منقسم انڈیاترقیاتی امکان کے اعتبار سے موزوں ترین ملک ہے۔ یہاں وہ حالات پوری طرح موجود ہیں کہ آزاد ماحول میں دونوں فرقوں کے درمیان صحت مند مقابلہ جاری ہو۔ اور پھر فطرت کے قانون کے مطابق، دونوں تیزی کے ساتھ ترقی کا سفر طے کریں۔ مگر بروقت صحیح رہنمائی نہ ملنے کی وجہ سے دونوں میں سے کوئی بھی حقیقی ترقی حاصل نہ کر سکا۔
میرا احساس یہ ہے کہ ۱۹۷۲ نے پہلے ملک میں جو ہندو ر ہنما یا مسلم رہنما ابھرے۔ ان میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں کسی کریڈٹ کا مستحق نہیں۔ دونوں نے یکساں طور پر حریفانہ قسم کی تحریکیں چلائیں ایک طرف ظفر علی خان نے کہا:
دنیا میں بلائیں دو ہی ہیں اک ساور کر اک گاندھی ہے اک کفر کا چلتا جھگڑ ہے اک ظلم کی چلتی آندھی ہے دوسری طرف گرو گولوالکر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ بھارت میں صرف ہندو ہی سچے نیشنلٹ ہیں۔ کیوں کہ یہ صرف ہندو ہیں جو انڈیا کو ہولی لینڈ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس سر زمین کا ہر ذرہ ان کے لئے مقدس ہے۔ مسلمان چون کہ نیشنلٹی کے ٹسٹ پر پورے نہیں اترتے اس لئے وہ نیشنلٹ نہیں ہیں (پنچ آف تھاٹ از گرو گولوالکر)
عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کے محبوب شاعر اقبال نے بھی یہی بات ان لفظوں میں کہی تھی:
خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیو تا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues