Al-Risala · November 1999 · page 21

My mission is to wipe away tears from all faces.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۹، صفحہ ۲۱

مگر اسی کے ساتھ اقبال نے اس کے برعکس بات بھی ان لفظوں میں کہی:

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے تاہم اس معاملے میں مسلمانوں کا جو ذہن خواہ مخواہ کسی اور کے موافق ہو یا نہ ہو، تاہم وہ اینٹی گڈ گورلواکر ضرور تھا۔

یہ مزاج اتنا بڑھا کہ دونوں کی صحافت میں صرف الفاظ کا فرق رہ گیا۔ مثال کے طور پر ریڈینس ایک مسلم ہفتہ وار ہے اور آرگنائزر ایک ہندو ہفتہ وار۔ مگر باعتبار حقیقت دونوں میں اتنی ہی یکسانیت ہے کہ یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ آرگنائزر ہندوؤں کا ریڈینس ہے اور ریڈینس مسلمانوں کا آرگنائزر۔

برصغیر ہند میں مسلم پریس کی پہچان یہ بن گئی کہ وہ اینٹی ہند و لہجہ میں بولتا ہو اور ہندو پریس کی پہچان یہ بن گئی کہ وہ اینٹی مسلم لہجہ میں بولتا ہو۔ پرو انسانیت لہجہ نہ ہندو پریس کا ہو اور نہ مسلم پریس کا۔ اس معاملے میں بعض استثناء ہو سکتے ہیں مگر برصغیر ہند کی پریس کا عمومی انداز یہی ہے۔

مہاتما گاندھی ہندوستان کی سیاسی آزادی کو ملک کے تمام مسائل کا حل سمجھتے تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میرا مشن صرف انگریزوں کو ملک سے نکالنا نہیں ہے بلکہ میرا مشن ہر آنکھ کے آنسو پوچھنا ہے:

My mission is to wipe away tears from all faces.

مگر آزادی کے پچاس سال بعد بھی ملک کی یہ حالت ہے کہ رونے والی آنکھوں کی تعداد پہلے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ آج ہمارا ملک اس سے بھی زیادہ مسائل سے دوچار ہے جس سے وہ ۱۹۳۷ء سے پہلے دوچار تھا۔

اس کا سبب کیا ہے۔ گہرائی کے ساتھ دیکھے تو معلوم ہوگا کہ مہاتما گاندھی اور ان کے

‹ Previous page Next page › Contents of November 1999 All issues

Printed page